انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 409

دم جلد ۳ ۴۰۹ ان الفاظ میں مولوی صاحب نے جس رسالہ کو پڑھ کر یہ کہا ہے کہ "الحمد للہ میں نے وہ وقت پالیا کہ جس کا میں سالہا سال سے منتظر تھا وہ وہی میرا رسالہ القول الفصل ہے۔جس میں میں نے ان تینوں اے مسئلوں کے متعلق اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے۔جن سے مولوی صاحب نے اس تازہ اشتہار میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔یعنی (1) نبوت مسیح موعود (۲) کفر و اسلام (۳) اسمہ احمد کی پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔مولوی صاحب نے اپنے خط میں ان عقائد کے صحیح ہونے کی صرف شہادت ہی نہیں دی۔بلکہ اس رسالہ سے ان کی وہ امید بر آئی ہے جس کے وہ سالہا سال سے منتظر تھے۔لیکن کیسے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ اب انہی مسائل کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ مجھے ان کا علم نہ تھا۔مولوی محمد احسن صاحب کے جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اصل خط بھی ہم دکھا سکتے ہیں۔پھر اسی خط میں انہوں نے القول الفصل جس میں مسئلہ کفر و اسلام۔نبوت مسیح موعود اور اسمه احمد کی بحث ہے کا جواب لکھنے والوں کے متعلق لکھا ہے کہ : ”یہاں پر ال فرعون لاہوریوں کی نسبت جناب والد صاحب کی طرف سے لکھتا ہوں۔خارجا معلوم ہوا کہ اس رسالہ الفصل کو ایک شیطان نے یہ کہا کہ مصنف رسالہ شریر ہے کذاب ہے، چالباز ہے، میں سارے پردے اس کے کھولوں گا۔یہ قول تو اس کا ایک ادنیٰ ہے۔اس کا تو وہی حال ہے جو فرعون کا تھا وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَ لَيَدْعُ رَبَّهُ اني أَخَافُ أَنْ يُبْدِلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المؤمن : ۲۷) قَالَ فِرْعَوْنُ ما أريكُمْ إِلَّا مَا أَرَى وَمَا اهْدِيكُمْ إِلَّا سَبْيلَ الرَّشَادِ (المومن : ۳۰) انشاء اللہ تعالیٰ اگر بالآخر تو بہ نہ کی تو غرق طوفان ضلالت میں ہو جاوے گا"۔ان الفاظ میں مولوی صاحب نے اس میرے رسالہ کا جواب لکھنے والے اور لاہوریوں یعنی غیر مبائعین کو فرعون قرار دیا ہے۔اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر وہ فرعون نہیں ہیں تو پھر مولوی صاحب پر سَبَابُ الْمُسْلِمِ فَسُوقُ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے والی حدیث کے مطابق کیا فتویٰ لگتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ مولوی صاحب اگر اس کا جواب دیں تو یہی دیں گے کہ اس قت مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے ان لوگوں کو فرعون کہا اور غرق طوفان ضلالت بنایا۔مگریہ کیسے غضب کی بات ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے صاجزادہ صاحب کے عقائد معلوم نہیں تھے اس بخاری کتاب الفتن باب قول النبي لا ترجعوا بعدى كفارا