انوارالعلوم (جلد 3) — Page 278
۲۷۸ اسلام اور دیگر نے اہب اصلاح نہیں کرتا تو پھر اس کو سزا دینا ہی بہتر سمجھے۔اور اگر تجربہ سے اس کا عفو اور درگزر سے اپنی دشمنی اور شرارت سے باز آجانا ثابت ہو تو درگزر ہی کرے اور یہی وہ تعلیم ہے جو میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے اور اس کے سوا اگر کوئی تعلیم ہو تو ضرور وقتی ہی کہلا سکتی ہے۔مثلاً یہود کو بوجہ ایک مدت تک محکومیت میں رہنے کے سزا دینے اور بدلہ لینے کی بہت تاکید کی گئی تھی تاکہ ان کے اندر جوش اور ہمت پیدا ہو چنانچہ اس تعلیم کا یہ نتیجہ نکلا کہ تھوڑی ہی مدت میں حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنی کمزوری سے پاک ہو گئے ورنہ انکی یہ حالت تھی کہ جب فرعون نے انکو آگھیرا تو باوجود فرعون کے مظالم کے ان میں سے بہت تھے جو اس بات پر راضی ہو گئے تھے کہ ہم واپس چلے جاتے ہیں اور یہ حالت اسی وقت قوم میں پیدا ہوتی ہے کہ جب وہ حد درجہ کی بزدل ہو جائے ورنہ اپنے مظالم اور چھیڑنے والے سے تنگ آکر ایسے جانور بھی مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو شکاری جانور نہیں ہوتے حالانکہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ میں کوئی بھی ہستی نہیں رکھتے۔پس بنی اسرائیل میں سے کئی قبائل کا واپس جانے کے لئے تیار ہو جانا اور پھر ہر موقع پر ڈرنا بتاتا ہے کہ اس وقت وہ جرات و بہادری کے لحاظ سے نہایت گری ہوئی حالت میں تھے۔پس انکے ابھارنے اور بڑھانے کے لئے اسی بات پر زور دینے کی ضرورت تھی کہ تم بدلہ ضرور او اور اس وقت کے مناسب حال یہ حکم تھا کہ " اور تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان آنکھ کا بدلہ آنکھ دانت کا بدلہ دانت ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا۔(استثناء باب ۱۹ آیت ۲۱ مطبوعہ ۱۹۲۲ء) لیکن جب ایک زمانہ گزر گیا اور نسلاً بعد نسل بنی اسرائیل نے اس قاعدہ پر عمل کیا تو ان کے اندر ایک قسم کی خونخواری اور سخت دلی پیدا ہوگئی اور اس کے دور کرنے کیلئے حضرت مسیح کے ذریعہ یہ اعلان کرایا گیا کہ ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا گر تا لینا چاہے تو چونہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جاوے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا جو کوئی تجھ سے مانگے اسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اس سے منہ نہ موڑ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کیلئے دعا مانگو تا کہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو اور جو تم پر لعنت کریں ان کیلئے برکت چاہو جو تم سے کینہ رکھیں انکا بھلا کرو اور جو تمہیں