انوارالعلوم (جلد 3) — Page 279
دم جلد ۳۰ ۲۷۹ اسلام اور دیگر مذاہب دکھ دیں اور ستادیں ان کے لئے دعا مانگو " (متی باب ۵ آیت (۳۸ تا ۴۵) اس اعلان پر جن لوگوں نے کان دھرے انہوں نے اس پر عمل کرنے کی بدولت اپنے اندر سے اس خونخواری کو نکال پھینکا جو اس وقت کے بنی اسرائیل کے دل میں پیدا ہو گئی تھی اور رفتہ رفتہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی پیدا ہو گئی جو بجائے لڑنے اور جھگڑنے کے محبت و پیار کرنے والے تھے لیکن کیا یہ تعلیم ہمیشہ کے لئے اور ہر ملک کے لئے ہو سکتی تھی کیا اس سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا تھا اور بنی نوع انسان کی اصلاح ممکن تھی؟ اپنے وقت میں اس تعلیم سے بے شک نہایت عمدہ اور نیک نتائج پیدا ہوئے لیکن اس کا رواج انہی میں دیا جا سکتا تھا جو موسوی تعلیم پر عمل کرتے کرتے دوسری حد پر پہنچ گئے تھے ورنہ سب دنیا میں اس پر عمل ہر گز نہیں ہو سکتا تھا۔نہ اس وقت نہ اس کے بعد۔پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لئے کوئی ایسی تعلیم آتی جو دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہوتی اور ہر ایک موقعہ و محل کے مناسب انسان کو ہدایت کرتی۔چنانچہ قرآن کریم آیا اور جیسا کہ ابھی آپ لوگوں کے سامنے پڑھا گیا ہے قرآن کریم نے ایک طرف تو موسوی شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ شریر اور بد کار کو اس کی بدی کے اندازہ کے مطابق سزا دو اور دوسری طرف مسیحی تعلیم کو بھی پیش کیا کہ تو بدی کے بدلہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ نیک سلوک کر اور ان دونوں تعلیموں سے زائد بات یہ بیان فرما دی کہ جہاں سزا سے اصلاح ہوتی ہو وہاں سزا دے اور جہاں عفو سے اصلاح ہوتی ہو وہاں عفو کر۔غرض دونوں سلوکوں میں سے جو سلوک بھی اس شخص کے مناسب حال ہو اس سے کر۔تا دنیا میں حقیقی امن قائم ہو اور دنیا سے ظلم اور بے جاعد اوت دور ہو۔اور یہی تعلیم ہے جو درمیانی ہے اور ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے مفید ہو سکتی ہے اور ایک ادنیٰ سے غور سے بھی انسان معلوم کر سکتا ہے کہ اس تعلیم کے بغیر اور کوئی تعلیم نہیں جسے سب دنیا میں رائج کیا جا سکے اور جس پر عمل کرنے سے انسانی طبیعت کے ایک طرف جھک جانے کا خطرہ بالکل مٹ جائے۔ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ ایسی کامل تعلیم اور کسی مذہب میں موجود نہیں اور اگر ہے تو اس مذہب کے پیروؤں کو چاہئے کہ ان تمام شرائط کے ساتھ مشروط تعلیم اپنی مذہبی کتب سے بھی دکھا ئیں۔دنیا میں تین ہی قسم کے مذہب نکلیں گے یا وہ جو کہتے ہیں کہ تو بدی کے بدلہ میں بدی کر۔یا وہ جو کہتے ہیں کہ تو بدی کے بدلہ میں بھی نیکی ہی کر۔یا وہ جو بلا کسی شرط کے یہ بھی کہتے ہیں کہ تو معاف کر اور یہ بھی کہ سزا دے۔لیکن سوائے اسلام کے ایسا کوئی مذہب نہ پاؤ گے جو انسان کو یہ بھی بتا تا ہو کہ تو سزا کس