انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 82

사 انوار العلوم جلد - ہے۔غرض یہ فتنہ بڑھتا ہی گیا اور ابھی تک بڑھ ہی رہا ہے اور عجیب عجیب اعتراض ہمارے خلاف پیدا کئے جاتے ہیں۔مثلاً مولوی محمد علی صاحب میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو معصوم عن الخطاء کہتا ہے۔میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ بالکل غلط ہے میں اپنے کو میں آپ کو ایسا نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی انسان ہو کر ایسا سمجھ سکتا ہے لیکن اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ میاں صاحب نے یہ جواب صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے دے دیا ہے ورنہ واقعہ میں وہ اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اپنی کوئی غلطی شائع نہیں کی اور نہ ہی کسی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔میں کہتا ہوں غلطی کا ہونا اور بات ہے اور غلطی کرنے کا امکان اور بات ہے اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ باوجود ایم اے ہونے کے اور امیر قوم کہلانے کے اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ غلطی کرنا اور کر سکتا الگ الگ باتیں ہیں۔میں نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ اب کہتا ہوں کہ میں غلطی نہیں کر سکتا۔لیکن اگر میری طرف سے کسی غلطی کا اعلان نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ غلطی نہیں کر سکتا تو کوئی شخص مولوی صاحب سے پوچھے کہ جناب مولوی صاحب ! میاں ! صاحب تو آپ کی اس دلیل کی رو سے بیشک اپنے آپ کو معصوم عن الخطاء سمجھتے ہیں۔مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ نے اس وقت تک اپنی غلطیوں کے کتنے اشتہار دیئے ہیں اور کتنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے کیا آپ کو بھی معصوم عن الخطاء سمجھ لیا جائے ؟ کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ مجھ پر وہ سوال کیا جاتا ہے جو خود ان پر پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی وہ اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔اگر ان کی طرف سے اپنی غلطیوں کے اعتراف میں کوئی اشتہار شائع ہو چکا ہو تا تب تو وہ مجھے یہ کہنے کا حق رکھتے تھے۔لیکن جب انہوں نے خود ہی ایسا نہیں کیا تو پھر مجھ سے کیوں یہ توقع رکھتے ہیں۔لیکن میں اقرار کرتا ہوں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے غلطی بھی کی ہے اور بہت بڑی غلطی کی ہے جو یہ ہے کہ میں نے اپنے اخباروں کو سمجھایا کہ ان کے متعلق کچھ نہ لکھو۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ہمارے اخباروں نے میرے کہنے پر خاموشی اختیار کی جب ہی وہ گالیوں اور بد زبانی میں بڑھ گئے اور طرح طرح کے جھوٹ اور بہتان لکھنے شروع کر دیئے۔میں نے یہ غلطی کی اور بڑی غلطی کی کہ اپنے اخباروں کو ان کے متعلق لکھنے سے روکا۔چونکہ انسان غلطی کرتا ہے میں نے بھی یہ غلطی کی۔ایک دوست ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں سفر میں گیا تو ایک مسجد میں ٹھہرا۔وہاں ایک شخص بیٹھا