انوارالعلوم (جلد 3) — Page 81
AL پاس ہمارے دلائل اور براہین کا کوئی جواب نہیں ہے اس لئے بد زبانی کے ہتھیار کو استعمال کر رہے ہیں۔دیکھو جب بیعت ہوئی تھی اس وقت جماعت کا اکثر حصہ ان کے ساتھ تھا چنانچہ انہوں نے خود بھی لکھا تھا کہ ہماری طرف جماعت کے بہت آدمی ہیں۔لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ کیمز قَنَّهُمْ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کی ہڈیاں توڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں گے بلکہ یہ کہ خدا تعالی ان میں سے لوگوں کی کو توڑ تو ڑ کر ہماری طرف لے آئے گا اور ہم میں شامل کر دے گا۔حضرت مسیح موعود کو بھی یہی الہام ہوا تھا جس کے آپ نے یہی معنی کئے ہیں۔اس میں شک نہیں وہ اس بات سے بھی چڑتے ہیں کہ میں کیوں اپنے الہام اور رویا شائع کرتا ہوں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ جب یہ باتیں تمام قوم کے متعلق ہوں تو کیوں نہ انہیں شائع کیا جائے۔بیشک اگر میرے الہام کسی ایک شخص کے ساتھ تعلق رکھتے تو میں بیان نہ کرتا لیکن جب یہ قومی معاملہ ہے تو کیوں چھپایا جائے۔پس اس لئے میں اپنے وہ رویا جو جماعت کے متعلق ہوں شائع کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔پھر میرے ساتھ ہماری جماعت کے اور لوگوں کو بھی اسی طرح گالیاں دیتے ہیں۔ہم سب کا نام انہوں نے محمودی رکھا ہوا ہے اور اپنے خیال میں ہمیں یہ بھی گالی ہی نکالتے ہیں لیکن نادان یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی گالی نہیں۔آنحضرت کو بھی کفار گالیاں دیتے تو آپ فرماتے کہ میرا نام محمد ہے جس کے معنی ہیں کہ بہت تعریف کیا گیا پھر مجھے کس طرح گالی لگ سکتی ہے۔اسی طرح عرب کے کفار جب آپ کو گالی دیتے تو اس وقت آنحضرت ا کا نام محمد نہ لیتے بلکہ نذ تم کہتے۔اس کے متعلق آنحضرت اللہ فرماتے کہ اگر یہ لوگ میرا نام محمدؐ لے کر گالیاں دیں تو مجھے گالی لگ ہی نہیں سکتی کیونکہ جسے خدا پاک ٹھہرائے کون ہے جو اس کی نسبت کچھ کہہ سکے اور اگر نہ تم کہہ کر گالیاں دیتے ہیں تو دیتے جائیں یہ میرا نام ہی نہیں۔کفار عرب اہل زبان تھے اس لئے وہ اتنی سمجھ رکھتے تھے کہ محمد نام لے کر ہم گالی نہیں دے سکتے لیکن یہ چونکہ عربی نہیں جانتے اس لئے یہ گالی دیتے ہیں کہ تم محمودی ہو۔ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل | ہے کہ ہم محمودی ہیں کیونکہ یہ تو رسول کریم ﷺ کا وہ مقام ہے جس کی نسبت خدا تعالٰی نے کی فرمایا ہے عسى أن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا - (بنی اسرائیل : ۸۰) اگر ہمارا رسول کریم سے اس عظیم الشان درجہ کے ذریعہ سے تعلق قائم ہو جسے اللہ تعالیٰ نے انعام عظیم کے طور پر آپ کے لئے وعدہ فرمایا ہے تو ہمارے لئے اس سے زیادہ فخر اور کیا ہو سکتا