انوارالعلوم (جلد 3) — Page 83
٨٣ انوار خلافت تھا وہ بے تحاشا مجھے گالیاں دینے لگ گیا اور میں خاموش سنتا رہا اور خیال کرتا رہا کہ میں اب کروں تو کیا کروں اور اسے کیونکر چپ کراؤں لیکن کچھ نہ سوجھتا۔آخر کچھ دیر کے بعد اسی جگہ سے ایک صف میں سے ایک اور شخص نکلا اور وہ اس کو گالیاں دینے لگ گیا جب اس نے بھی گالیاں دینی شروع کیں تب جاکر وہ پہلا شخص خاموش ہوا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دونوں دیوانے تھے اور اتفاق سے اس جگہ اکٹھے ہو گئے تھے۔اسی طرح اگر ادھر سے چپ ہو جائیں تو وہ گالیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں اور اعتراض پر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور آگا پیچھا کچھ نہیں دیکھتے۔لیکن اگر ان کے اعتراضات کا جواب دیا جائے اور ظاہر کیا جائے کہ جو اعتراضات وہ ہم پر کرتے ہیں وہ ہم پر نہیں بلکہ ان پر پڑتے ہیں تو پھر اپنے حملوں میں وہ ذرا محتاط ہو جاتے ہیں۔غرض اس جھگڑے میں ہمارا روپیہ اور وقت بہت کچھ ضائع ہوا۔نہ ان کے حملوں پر خاموش ہو سکتے ہیں کہ بعض کمزور طبائع لوگوں کو ابتلاء نہ آجائے اور نہ ان کا جواب دینے کو دل چاہتا ہے کیونکہ اس وقت اور اس روپیہ کو خدمت دین اسلام میں خرچ کرنے سے بہت سے نیک نتائج کے نکلنے کی امید ہوتی ہے مگر مجبورا ان لوگوں کی طرف توجہ کرنی ہی پڑتی ہے اس وقت بھی جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ گو میں اور مضامین بیان کرنا چاہتا تھا۔لیکن موجودہ اختلاف کی وجہ سے دو اختلافی مسائل پر بھی کچھ بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔اور پہلے انہی اختلاف کو شروع کرتا ہوں۔پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرت ا کا اور کیا سورۃ الصف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہو گا بشارت دی گئی ہے آنحضرت کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ اسمہ 21 احمد کی پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم یا کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہی ہے۔میں اس بات کے ثبوت میں اپنے