انوارالعلوم (جلد 3) — Page 65
انوار العلوم جلد ۳۰ ۶۵ پیغام مسیح موعود عمود سمجھے جاتے تھے۔اور سلسلہ احمدیہ کو ذرا بھی کسی قسم کا ضعف نہ آنے دیا۔اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ سلسلہ انسانی نہیں بلکہ خدائی ہے۔پس وقت آگیا ہے کہ جنہوں نے بدوں غور کرنے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کیا ہے۔ان سے ضرور پوچھا جائے اگر (نعوذ باللہ) یہ سلسلہ جھوٹا ہے۔تو قبول کرنے والوں کو سزا نہیں ہوگی۔لیکن جنہوں نے غور ہی نہیں کیا۔ان کو سزا دی جائے گی کہ کیوں انہوں نے غور نہیں کیا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ صاحبان دنیا کے کاموں سے وقت نکال کر مہینہ میں ایک دفعہ یا کم از کم سال میں ایک دو دفعہ اس سلسلہ کی کتابیں ضرور پڑھیں گے۔اور واقف کار لوگوں سے باتیں سنیں گے۔اگر یہ باتیں حق نہ ہوں تو آپ لوگ رو کردیں۔کیا ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے کہ ہم کسی کو ان باتوں کے قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔نہیں اور ہرگز نہیں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو تلوار دے کر نہیں بھیجا۔اور اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ا پر منکرین اسلام نے اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا ہے۔حالانکہ آنحضرت کو جب مخالفین نے از حد تنگ کیا تھا تو تب آپ نے تلوار اٹھائی تھی۔تاہم نادان لوگوں نے یہی کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے لیکن اب جبکہ دنیا سے اسلام اٹھ چکا تھا۔تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو کھڑا کر کے بتا دیا کہ جب اس کا یہ غلام دلائل اور براہین سے لوگوں کے دلوں کو فتح کر سکتا ہے تو آقا نے کیوں نہ ایسا کیا ہو گا۔دنیا نے چونکہ رسول اللہ ال کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی تھی اس لئے ضرور تھا کہ وہ تلوار سے ہی مقابلہ کرتے لیکن ب خدا تعالیٰ نے مذہب کے متعلق تلوار چھین لی ہے اور ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہم اسی گورنمنٹ کے مذہب پر جس کی حکومت میں رہتے ہیں آزادی سے اعتراض کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے دلائل سے کام لیا ہے پس ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں اور نہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں ہونی چاہئے تھی۔ہم دلائل پیش کرتے ہیں آپ ان پر غور کریں اور اگر حق نہ پائیں تو ان کو رد کر دیں لیکن سننا اور غور کرنا شرط ہے۔کیا ممکن نہیں کہ یہ سلسلہ سچا ہو پس اگر سچا ہے تو میں سب مذاہب کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ بتلاؤ کہ خدا کو کیا جواب دو گے تم لوگ جھوٹے اشتہاروں اور ڈنڈھوروں کی طرف تو متوجہ ہو جاتے ہو۔پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آواز آئی ہے اس پر کان نہ دھرو۔آخر میں میں پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے با ہمت ضرور ان