انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 64

۶۴ پیغام مسیح موعود سلسلہ مٹ جائے گا۔اب دنیا کی کوئی طاقت ہماری ترقی میں روک نہیں ہو سکتی۔اور کوئی حکومت روک نہیں سکتی۔ہم خدا کے فضل سے اس حد کو پہنچ چکے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے ترقی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔اگر ساری دنیا مل کر بھی ہماری ترقی کو روکنا چاہے تو نہیں روک سکتی۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا۔اور اس نے کہا کہ آپ اس خدا کی قسم کھا ئیں جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے کہ میں سچا ہوں۔تو آپ نے قسم کھائی۔میں بھی آپ کی اتباع میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔کہ اب اس سلسلہ کے لئے کوئی چیز روک نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ نے مجھے خود ایک رویا کے ذریعہ بتایا۔ہم کہ آسمان سے سخت گرج کی آواز آرہی ہے اور ایسا شور ہے جیسے توپوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ہاں کچھ کچھ دیر کے بعد آسمان پر روشنی ہو جاتی ہے۔اتنے میں ایک دہشت ناک حالت کے بعد آسمان پر ایک روشنی پیدا ہوئی اور نہایت موٹے اور نورانی الفاظ میں آسمان ANANA ALI AND TANG اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ لکھا گیا ہے۔اس کے بعد کسی نے بآواز بلند کچھ کہا۔جس کا مطلب یاد رہا کہ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات ہو رہے ہیں جن کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا ہو گا۔پس اس سلسلہ کی ترقی کے دن آگئے ہیں کیونکہ اس خواب کا ایک حصہ پورا ہو گیا ہے۔اور یورپ کی خطرناک جنگ کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔اور صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی صداقت کو روشن کرے۔اور یہ ہو نہیں سکتا مگر اس کے ہاتھ سے جس نے مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی۔خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت پھیلے۔کیونکہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے۔جن لوگوں کا یہ خیال ہو کہ یہ سلسلہ فلاں آدمی کی وجہ سے چل رہا ہے۔اس کے بعد تباہ ہو جائے گا۔وہ سن رکھیں کہ ایسے بہت لوگ تھے۔جو کہتے تھے کہ مرزا صاحب مرگئے تو یہ سلسلہ بھی مر جائے گا۔پھر بہت تھے جو یہ کہتے تھے کہ مولوی نور الدین کی وجہ سے چل رہا ہے۔حتی کہ خواجہ غلام الثقلین صاحب نے بھی ایسا ہی لکھا تھا۔جس کا میں نے جواب دیا تھا کہ تم غلط کہتے ہو کہ کسی انسانی طاقت سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پھر انگریزی خوانوں کا خیال تھا کہ چند انگریزی پڑھے ہوئے چلا رہے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے دو تین واقعات یکے بعد دیگرے کر کے دکھا دیا کہ یہ خیال غلط ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ایک تو وہ بے نظیر انسان اٹھا لیا۔جس کی علمیت کا اعتراف غیر احمدی عالموں کو بھی کرنا پڑتا تھا۔اور دوسرے ان لوگوں کو الگ کر دیا جو سلسلہ کے لئے بطور