انوارالعلوم (جلد 3) — Page 571
انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۷۱ خدا کے قمری نشان یقینی طور پر کبھی بھی زلزلہ نہیں قرار دیا بلکہ ہمیشہ احتمال بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی آفت مراد ہو جس سے جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔اب غور کر کے دیکھو کہ زلزلہ کے سوادہ اور کونسی آفت ہے جس سے جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آسکتی ہے اور جس کو زلزلہ سے مشابہت تامہ ہوتی ہے کیا وہ جنگ ہی نہیں۔خود قرآن کریم میں جنگ کو زلزلہ سے مشابہت دی گئی ہے جیسا کہ حضرت سلیمان کے حملہ پر ملکہ سبا کا قول نقل فرماتا ہے کہ ران المُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ- (النمل: ۳۵) یعنی جنگ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ایک بادشاہ فاتحانہ طور پر دوسرے ملک میں داخل ہوتا ہے تو اوپر کے طبقہ کو نیچے کر دیتا ہے اور یہی حال زلزلہ شدید کا بیان فرماتا ہے جیسا کے حضرت لوط کی قوم کی نسبت فرماتا ہے جَعَلْنَا عَلَيْهَا سَافِلَهَا : (ہود (۸۳) کہ اس کے اوپر کے طبقہ کو نیچے کا طبقہ بنا دیا پس جنگ کو زلزلہ سے نہایت گہری مشابہت ہے کہ جسمانی لحاظ سے بھی اور طبقات مختلفہ کے لحاظ سے بھی اس کا فعل زلزلہ کی طرح ہوتا ہے خصوصاً اس زمانہ کی جنگیں کہ جن میں کثرت سے سرنگیں اڑائی جاتی ہیں وہ تو بالکل ہی زلزلہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔اب رہا یہ اعتراض کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک میں آئے گا اور آپ کی زندگی میں آئے گا یہ دونوں اعتراض قلت تدبر کا نتیجہ ہیں پہلے اعتراض کا تو یہ جواب ہے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ نہیں لکھا کہ وہ زلزلہ دوسرے ملک میں نہیں آئے گا۔بلکہ صاف طور پر فرمایا ہے کہ وہ آفت شدیدہ دیگر ممالک میں بھی آئے گی چنانچہ آپ فرماتے ہیں "اے یورپ! تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا ! تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۲۷۹) اسی طرح خود ده اشعار جن میں موجودہ جنگ کی خبر ہے بتا رہے ہیں کہ یہ آفت عام ہو گی اور سب دنیا پر آئے گی۔جیسا کہ فرماتے ہیں۔مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس - زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار پس جب کہ حضرت مسیح موعود اس موعود آفت کا مورد تمام بنی نوع انسان کو اور خصوصاً زار روس کو جو ہندوستان سے سات ہزار میل پر رہتا ہے قرار دیتے ہیں تو یہ کہنا کہ وہ آفت