انوارالعلوم (جلد 3) — Page 572
رالعلوم جلد ۳ ۵۷۲ ہندوستان کے سوا اگر کسی اور جگہ بھی آئی تو اس سے پیش گوئی کی صداقت میں نقص آتا ہے کیسی جہالت کی بات ہے۔ہاں یہ اعتراض اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ ہندوستان اس سے بچا رہتا لیکن کیا یہ واقعہ ہے کہ ہندوستان اس آفت کے صدمہ سے محفوظ ہے۔کیا ہزاروں لاکھوں اپنائے ہند دنیا کے دور دراز ملکوں میں زیر زمیں دبے ہوئے اس امر کی شہادت نہیں دے رہے کہ ہندوستان بھی اس آفت شدیدہ کے صدمے سے محفوظ نہیں اور اپنا پورا حصہ لے رہا ہے۔اس اشتہار کے لکھنے والے کو اگر کوئی شبہ ہو تو وہ پنجاب کے علاقہ میں پھر کر دیکھے کہ قریباً ہر شہر اور ہر بستی اپنے ان عزیزوں پر ماتم کر رہی ہے۔جو مختلف میدانوں میں دشمنان امن و صلح کی گولیوں کی نذر ہوئے۔اور جنہوں نے اپنے محسن بادشاہ اور عزیز ملک کے لئے اپنے خونوں کو پانی کی طرح بہا دیا۔ہاں وہ ان مصیبت زدہ ماؤں اور بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بوڑھے باپوں سے سوال کرے جن کی آنکھوں کے نور اور سر کے سایہ اور بڑھاپے کے اعضاء جاتے رہے اور ہمیشہ کی لئے جاتے رہے تا اسے معلوم ہو کہ یہ ہنسی کا وقت نہیں بلکہ رونے کی گھڑی ہے اور تا اسے معلوم ہو کہ خدا کی باتیں کس طرح زبر دست طور پر پوری ہوتی ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وہ زلزلہ یا آفت شدیدہ آپ کی زندگی میں آئے گی تو اس کا یہ جواب ہے کہ بے شک حضرت مسیح موعود نے ایسا ہی لکھا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے چاہا کہ اس کے برخلاف ہو اور وہ وقت بجائے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں آنے کے آپ کے کسی اور موعود کے وقت میں آوے۔چنانچہ اللہ تعالٰی نے آپ کو یہ دعا الهانا سکھائی کہ رَبِّ آخِرُ وَقتَ هذا اے خدا تو اس آفت کے وقت کو پیچھے ڈال دے۔اور پھر اس کا جواب یہ دیا کہ آخَرُهُ اللهُ إِلى وَقْتِ تُسَمَّى یعنی اللہ تعالٰی نے اس کو اس وقت تک جو بیان ہو چکا ہے پیچھے ڈال دیا۔( تذکرہ صفحہ ۱۰۶ - ایڈیشن چهارم ) پس اس الہام نے بتا دیا تھا کہ اب وہ زلزلہ آپ کے سامنے نہیں آئے گا۔لیکن یہ بھی بتا دیا تھا کہ جو وقت بتایا گیا تھا اس کے اندر ہی آئے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ وقت جو مقرر ہو چکا ہے اس تک ہم نے پیچھے کر دیا ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے زلزلہ کی میعاد کے متعلق دو باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ آپ کی زندگی میں ہو گا اور دوسری یہ کہ سولہ سال کے اندر ہو گا۔پس جب کہ آپ کی زندگی کے متعلق الہام نے بتا دیا کہ اس میں یہ واقعہ