انوارالعلوم (جلد 3) — Page 570
انوار العلوم جلد - ۳ ۵۷۰ زندگی میں آئے گا۔" صفحہ ۹۰ سطر ۹- (روحانی خزائن جلد ۲۱ ق ۲۵۱) لیکن یہ حوالہ جو اس نے نقل کیا ہے آئندہ پیش گوئی کے متعلق ہے ہی نہیں بلکہ سائل کے اس سوال کے جواب میں یہ تحریر لکھی گئی ہے کہ ۴۔اپریل کا زلزلہ آپ کی پیش گوئی کے مطابق کس طرح کہلا سکتا ہے۔چنانچہ سائل کا اگلا فقرہ خود اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے "جناب مقدس مرزا صاحب نے دوبارہ زلزلہ آنے کی خبر دی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ وہ کوئی زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب ہو گا۔" صفحہ ۹۱ یہ فقرہ صاف بتا رہا ہے کہ سائل کا پہلا سوال پہلے زلزلہ کے متعلق تھا جو پورا ہو چکا۔اور دو سرا سوال آئندہ کی پیش گوئی کے متعلق تھا۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والی خبر کے متعلق اسی وقت کہہ دیا گیا تھا کہ اس کی مراد زلزلہ کے سوا اور کوئی آفت شدیدہ بھی ہو سکتی ہے۔اور جو جواب حضرت مسیح موعود نے سائل کو دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے کہ ضروری نہیں کہ زلزلہ ہی آئے بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور آفت شدیدہ ہو۔چنانچہ جو حوالجا کاتب اشتہار دیتا ہے وہ بھی بتا رہے ہیں کہ آپ نے اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ بعید نہیں کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت ہو۔چنانچہ وہ ایک حوالہ براہین احمدیہ سے لکھتا ہے۔"ہم نے کب اور کسوقت اپنی پیشگوئیوں کے الفاظ کے یعنی کئے ہیں کہ ان سے مراد زلزلہ نہیں ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اکثر او ر اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے۔" یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو یہ خیال ضرور تھا کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت بھی ہو سکتی ہے چنانچہ اس بات کی تائید میں ہم کچھ اور حوالہ جات بھی نقل کرتے ہیں ضمیمہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۹۶ پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ "تعجب کہ ہم بار بار کے جاتے ہیں کہ نکن غالب کے طور پر زلزلہ سے مراد ہماری پیش گوئیوں میں زلزلہ ہی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو ایسی خارق عادت آفت مراد ہے جو زلزلہ سے شدید مناسبت رکھتی ہو اور پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اس کے اندر موجود ہو۔پھر بھی معترض صاحب کی اس قدر الفاظ سے تسلی نہیں ہوتی۔" اسی طرح براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۲۰ پر فرماتے ہیں " ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔" (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۱) ان عبارتوں کے پڑھنے سے ہر ایک صاحب دانش معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آنے والی آفت کو