انوارالعلوم (جلد 3) — Page 504
العلوم جلد۔۵۰۴ ذکر الهی میں یا خوشی ہوگی یا رنج پس اگر خوشی ہو تو الحمد للہ رب العلمین کے اور اگر رنج ہو تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے فَاذْكُرُوا اللهَ قِيَا مَا وَ قُعُودًا وَعَلى جُنُوبِكُمْ اور انحضرت ا نے ہر حالت کے متعلق ذکر مقرر فرما دیئے ہیں اس لئے ان کے کرنے سے انسان ہر حالت میں خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔مثلاً ایک شخص جو دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہو وہ اگر اپنے متعلق کوئی خوشخبری سنے تو الحمد للہ کہے۔اگر چلتے ہوئے اسے خوشی کی بات معلوم ہو تو بھی الحمد للہ کہے۔اگر لیٹے ہوئے خوشی کی بات سنے تو اسی حالت میں الحمد للہ کے۔اس طرح خود بخود قِهَا مَا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِكُمُ الله تعالیٰ کا ذکر ہوتا رہے گا۔پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ أَفْضَلُ الذَّكَرِ لا إله إلا الله ( ترندی کتاب الدعوات باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة ) جابر سے ترندی میں روایت ہے کہ سب سے بہتر اور افضل ذکر یہ ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔باقی اذکار کی بھی مختلف فضیلتیں ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ کی نسبت فرمایا ہے۔كَلِمَنَانِ حَنِیفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ ثَقِيتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَسَنَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ ( بخارى كتاب التوحید باب قول الله تعالى و نضع الموازين القسط و ترندي ابواب الدعوات باب ماجاء في فضل التسبيح والتکبیر کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ جو زبان سے کہنے میں چھوٹے ہیں مگر جب قیامت کے دن وزن کئے جائیں گے تو ان کا اتنا بوجھ ہو گا کہ ان کی وجہ سے نیک اعمال کا پلڑا بہت بھاری ہو جائے گا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں۔یہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ذکر ہے۔حتی کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود بیماری کے سخت دورہ میں تہجد کے لئے اٹھے اور غش کھا کر گر گئے اور نماز نہ پڑھ سکے تو الہام ہوا کہ ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہی پڑھ لیا کرو۔تو یہ بھی بہت فضیلت رکھنے والا ذکر ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ا کثرت سے اس کو پڑھتے تھے۔ان دو ذکروں کو رسول کریم ﷺ نے افضل بتایا ہے۔مگر ایک اور ذکر بھی افضل ہے گو اس کے متعلق رسول کریم اے کا کوئی ارشاد محفوظ نہیں۔مگر عقل بتاتی ہے کہ وہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ہے اور وہ قرآن کریم کی آیات کا ذکر ہے۔اگر ان کو ذکر کے طور پر پڑھا جائے تو دو ہرا ثواب حاصل ہو گا۔ایک تلاوت کا اور دوسرے ذکر کا۔یہ تو میں نے ذکر بتلائے ہیں۔اب ان کے متعلق احتیاطیں بتاتا ہوں۔