انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 505

وم باید ۳۰۔۵۰۵ ذکراتی پہلی احتیاط یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ذکر کرنے کے متعلق احتیاطیں کہ کبھی اتنا ذکر نہ کرو کہ دل ملول ہو جائے (۲) ایسے وقت میں ذکر نہیں کرنا چاہئے جبکہ دل مطمئن نہ ہو۔مثلاً ایک ضروری کام کرنا ہے اس وقت کوئی اگر ذکر کرنے کے لئے بیٹھ جائے تو اس کی توجہ ذکر کی طرف نہ ہو گی۔اور اس طرح خدا تعالیٰ کے کلام کی بے قدری ہوگی۔اور انسان گناہگار ٹھہرے گا۔تو ذکر کرنے کے لئے پہلی احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ ذکر اس قدر لمبا عرصہ نہ کرے کہ دل ملول ہو جاوے اور دوسری یہ کہ ایسے وقت میں ذکر کے لئے نہ بیٹھے جبکہ دل کسی اور خیال میں منہمک ہو۔اور بجائے ثواب حاصل کرنے کے گناہگار ٹھرے۔بلکہ اختصار کے ساتھ اور توجہ کے قائم ہونے کے وقت کرے۔ایک دفعہ رسول کریم و گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ سے ایک عورت باتیں کر رہی تھی۔آپ نے فرمایا کیا کہہ رہی ہو۔حضرت عائشہ نے کہا یہ سنا رہی ہے کہ میں اس قدر عبادت کرتی ہوں اور اس طرح کرتی ہوں۔آپ نے سن کر فرمایا یہ کوئی خوبی کی بات نہیں ہے کہ اس قدر زیادہ عبادت کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ اسی عبادت کو پسند کرتا ہے جس پر دوام اختیار کیا جا سکے۔(مشکوة كتاب الايمان باب القصد فى العمل ( اللہ تعالی زیادہ عبادت سے ملول نہیں ہوتا۔بلکہ بندہ خود ملول ہو جاتا ہے اور جب ملول ہو جاتا ہے تو پھر اس کی عبادت کسی کام کی نہیں رہتی۔پس اگر کوئی حد سے زیادہ بڑھتا ہے تو اس پر مصیبت پڑ جاتی ہے۔عبد اللہ بن عمرو بن عاص کے متعلق آیا ہے وہ ایک طاقت ور انسان تھے ساری رات نماز پڑھتے اور دن کو روزہ رکھتے اور سارے قرآن کریم کی تلاوت ایک دن میں کرتے۔آنحضرت کو جب معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں ہے۔رات کا چھٹایا تیسرا یا زیادہ سے زیادہ آدھا حصہ نماز پڑھنی چاہیئے۔اور روزہ زیادہ سے زیادہ ایک دن رکھنا چاہئے۔اور ایک دن افطار کرنا چاہئے۔اور قرآن کریم تین دن سے کم عرصہ میں ختم نہیں کرنا چاہئے۔(بخاری) كتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم) اس کے متعلق عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بہت کوشش کی کہ اس سے زیادہ کے لئے اجازت مل جائے۔لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔وہ اسی پر عمل کرتے رہے۔لیکن جب بوڑھے ہو گئے۔تو بہت افسوس ظاہر کرتے کہ میں نے رسول کریم سے اقرار تو کر لیا تھا لیکن اب کر نہیں سکتا۔تو حد سے زیادہ بڑھنا مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ذکر بھی ایک بہت اچھی چیز ہے۔مگر دیکھو جس طرح پلاؤ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو وہ بد ہضمی