انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 503

دم جلد ۳ ۵۰۳ ذکرالی چاہئے کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کی کوشش کریں۔لیکن اگر سارا ترجمہ نہ آتا ہو تو اس طرح کرنا چاہئے کہ کسی قدر قرآن کریم کا ترجمہ سیکھ لیا جائے اور جب روزانہ منزل پڑھیں تو ساتھ ہی اس حصہ کو بھی پڑھ لیں جس کا ترجمہ جانتے ہوں۔کوئی کہے کہ پھر منزل پڑھنے کا کیا فائدہ جبکہ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی کام نیک نیتی اور اخلاص سے کیا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا اجر دیتا ہے۔اس لئے جب کوئی خدا تعالیٰ کے لئے بغیر ترجمہ جاننے کے ہی پڑھے گا تو خدا تعالیٰ اس کے اخلاص اور نیت کو دیکھ کر ہی اسے ثواب پہنچا دے گا اور یہ بات بھی درست ہے کہ محض الفاظ کا بھی اثر ہوتا ہے۔یکھئے رسول کریم نے حکم دیا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان کہی جاوے۔حالانکہ اس وقت بچہ بالکل کچھ جاننے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔مگر داشتہ آید بکار کے مطابق اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ دیگر از کار تسبیح اور تحمید جنہیں انسان اکیلا بیٹھ کر دیگر از کار کرے یا مجالس میں۔اس ذکر کی بھی ایک قسم فرض ہے جیسا کہ جانور کے ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا اگر اس وقت تکبیر نہیں پڑھی جائے گی۔تو جانور حرام ہو جائے گا۔اور دوسری قسم نفل ہے جو دوسرے اوقات میں درد کی صورت میں پڑھی جاتی ہے اور ان کو رسول کریم ﷺ نے بہت وسیع کیا ہے۔یعنی آپ نے ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا ذکر رکھا ہے۔مثلاً جب کھانا کھانے بیٹھو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھ لو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی نہیں پڑھے گا تو اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔بلکہ یہ ہے کہ جس غرض کے لئے کھانا کھایا جاتا ہے وہ اس طرح پورے طور پر حاصل ہو جائے گی۔یعنی روحانیت کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا۔پھر ہر کام کے شروع کرنے کے وقت بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ پڑھنے کا حکم ہے تاکہ اس کام میں برکت ہو۔اور جب اس کو ختم کر لیا جائے۔تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پڑھا جائے۔تاکہ اس کام میں برکت ہو۔اسی طرح اگر کوئی نیا کپڑا اپنے یا کوئی اور نئی چیز استعمال کرے تو الحمد للہ کہہ کر اس کا شکریہ ادا کرے۔ہر رنج اور مصیبت کے وقت اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا چاہئے۔اگر کوئی بات اپنی طاقت اور ہمت سے بالا پیش آئے تو لا حول و لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہنا چاہئے۔غرض یہ ذکر ان باتوں کے متعلق ہیں جو روزانہ پیش آتی رہتی ہیں۔ہر ایک انسان کو دن - ہے۔