انوارالعلوم (جلد 3) — Page 410
جلد - ۴۱۰ متفرق لئے بیعت کی تھی۔اپنی غلطی کا اقرار کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کچھ ہتک ہوتی ہے۔آپ صاحبان میں سے کئی لوگ ایسے ہوں گے کہ جنہوں نے پہلے بیعت نہیں کی تھی لیکن جب ان کو غلطی معلوم ہوئی تو بیعت کرلی۔کیا اس سے ان کی ہتک ہو گئی۔پھر کیا حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کے عقیدے پہلے اور نہیں تھے اور پھر انہوں نے ان کو چھوڑ کر آنحضرت کو قبول نہیں کر لیا تھا کیا حضرت عمر رسول کریم اس کو قتل کرنے کی نیت سے گھر سے نہیں نکلے تھے لیکن اپنی غلطی کو معلوم کر کے آنحضرت کے غلام بن گئے۔تو غلطی کا اقرار کرنا شان کو بڑھانے والی بات ہے نہ کہ کم کرنے والی۔پس اگر مولوی محمد احسن صاحب یہ کہتے ہیں کہ پہلے میرے عقائد بھی وہی تھے جو مبائعین کے ہیں لیکن اب مجھے اپنی غلطی معلوم ہو گئی ہے اس لئے میں ان کو چھوڑتا ہوں تو ہم کبھی ان کی دیانت اور امانت پر الزام نہ لگاتے۔لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ مجھے میاں صاحب کے عقائد معلوم ہی نہ تھے اب معلوم ہوئے ہیں اس لئے میں علیحدہ ہوتا ہوں اور یہ جھوٹ ہے۔پھر دیکھئے جس دن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے ہیں اس سے دوسرے ہی دن جناب نواب صاحب کے مکان پر چند آدمی مشورہ کے لئے جمع ہوئے تو وہاں مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ہمارا اور میاں صاحب کا عقائد میں اختلاف ہے۔یہ حضرت مسیح موعود کے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں اور ہم نہیں کہتے۔یہ حضرت مسیح موعود کو ایسا ہی نبی سمجھتے ہیں جیسے دوسرے نبی پھر ہم کس طرح ان کی بیعت کر سکتے ہیں۔اس مجلسی میں مولوی محمد احسن صاحب بھی موجود تھے۔وہ قسم کھا کر جتلائیں کہ کیا یہ باتیں اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے کسی تھیں یا نہیں۔اگر کسی تھیں اور مولوی محمد احسن صاحب کو اس وقت میرے یہ عقائد معلوم نہ تھے تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو کیوں نہ کہا کہ تم یہ غلط کہہ رہے ہو ان کے تو یہ عقائد نہیں ہیں۔بلکہ اس وقت تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو یہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھ بحث کر کے ان باتوں کا فیصلہ کر لو کہ کسی کے عقائد درست اور صحیح ہیں۔پھر اسی مجلس میں ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جوش میں آکر بول اٹھے تھے کہ ہاں واقعہ میں ہم حضرت مسیح موعود کو نبی سمجھتے ہیں اور ایسا ہی نبی سمجھتے ہیں جیسا کہ پہلے تھے اور کیوں نہ سمجھیں جبکہ حضرت مسیح موعود نے خود لکھ دیا ہے کہ۔تم مسیح زمان و منم کلیم خدا منم محمد و احمد که مجتبی باشد اُس وقت مولوی محمد احسن صاحب نے ان کو کیوں نہ روکا کہ یہ کیا کر رہے ہو یہ تو ہمارے عقائد