انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 411

دم جلد ۳۰ نہیں ہیں۔بلکہ الٹی ان کی تائید کی۔پھر میں نے بیعت لیتے وقت جو تقریر کی تھی اس میں بھی میں نے اپنے عقائد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "میرے پیارو! میرا دہ محبوب آقاسید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی کچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں لیے میری اس تقریر کے وقت مولوی محمد احسن صاحب بھی موجود تھے اس وقت وہ کیوں نہ بول پڑے۔لیکن درست بات یہ ہے کہ جو کچھ میرے عقائد ہیں۔وہ ان کو اس وقت بھی خوب اچھی طرح معلوم تھے اور وہ خود بھی ان کے ساتھ متفق تھے اور اب جو انہوں نے اعلان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔پھر ان کے اشتہار میں ایک اور لطیفہ ہے جس کو دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہوا اور خوشی بھی۔افسوس تو اس لئے کہ وہ کیسی لغو اور بیہودہ باتیں کرنے لگ گئے ہیں اور خوشی اس لئے کہ ان کے اس اشتہار سے میری حضرت مسیح موعود کے ساتھ ایک اور مماثلت ثابت ہو گئی۔اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ میں نے مرزا کو بڑھایا تھا اور میں ہی اس کو گھٹاؤں گا۔لیکن خدا تعالیٰ کی نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کے لئے وہ نشانات دکھلائے کہ آپ بہت زیادہ بلند ہو گئے اور وہ بالکل گر گیا۔مولوی محمد احسن صاحب نے بھی اسی کی طرح میرے متعلق اعلان کیا ہے کہ صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس بات کے اہل نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں۔اور اس لئے میں اس خلافت سے جو محض ارادی ہے سیاسی نہیں صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کے عند الله و عند الناس اس ذمہ داری سے بری ہو تا ہوں۔جو میرے سر پر تھی" عجیب بات ہے کہ یہ انہی مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے اعلان شائع ہوا ہے جنہوں نے مجھے لکھا تھا کہ میں یقین کامل سے کہتا ہوں کہ حقیقت آپ کی خلافت کی ثابت شدہ صداقت ہے اور