انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 361

انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۶۱ سیرت مسیح موعود آپ نے امن عامہ کے قیام میں بہت بڑا کام کیا۔ کیونکہ اس وقت لوگوں میں عام طور پر یہ بات پھیلائی جاتی تھی کہ گورنمنٹ خود ہی طاعون پھیلاتی ہے اور جو تدابیر اس کے انسداد کی ظاہر کی جاتی ہیں وہ در حقیقت اس وباء کو پھیلانے والی ہیں اور اسلام کے بھی خلاف ہیں۔ چنانچہ علماء نے بڑے زور کے ساتھ فتوی دے دیا تھا کہ طاعون کے دنوں میں گھر سے نکلنا سخت گناہ ہے۔ اور اس طرح ہزاروں جاہلوں کی موت کا باعث ہو گئے۔ چوہے مارنے کی گولیاں تقسیم کی گئیں تو انہی کو باعث طاعون قرار دیا گیا۔ پنجرے دیئے گئے تو ان پر اعتراض کیا گیا۔ غرض اس وقت شورش برپا تھی اور بعض جگہ حکام سرکار پر حملے بھی ہوئے۔ ایسے وقت میں آپ کے اعلان اور آپ کی جماعت کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی اور آپ نے ' ہوئی اور آپ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ طاعون کے دنوں میں گھروں سے باہر نکلنا اور بستی سے باہر رہنا اسلام کی رو سے منع نہیں بلکہ منع صرف یہ بات ہے کہ ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں جائے کیونکہ اس سے بیماری کے دوسرے شہروں میں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ ایام مذہبی بحث مباحثہ کے قانون سڈیشن پر گورنمنٹ کو میموریل اور تجاویز سبب خطر ناک ہو رہے تھے اور شتہ اور شملہ خاص طور پر ممتاز تھے ۔ آپس کی مخالفت سخت بڑھ رہی تھی اور سیاسی مفسدہ پرداز اس مذہبی دشمنی سے فائدہ اٹھا کر گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں مشغول تھے اور اسی شرارت کو محسوس کر کے گورنمنٹ نے ۱۸۹۷ء میں سڈیشن کا قانون بھی پاس کیا تھا۔ لیکن باوجود اس قانون کے ہندوستان امن سے فساد کی طرف منتقل ہو رہا تھا اور اس قانون کا کوئی عمدہ نتیجہ نہ نکلا تھا۔ کیونکہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کے لوگ جتنے مذہب کے معاملہ میں جوش میں آسکتے ہیں اتنے سیاسی امور میں نہیں آتے ۔ لیکن اس قانون میں مذہبی لڑائی جھگڑوں کا سد باب نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس کی ضرورت گورنمنٹ اس وقت محسوس کرتی تھی۔ مگر جس بات کو مدبران حکومت سمجھنے سے قاصر تھے حضرت مسیح موعود ایک گوشہ تنہائی میں بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ ستمبر ۱۸۹۷ء میں ایک میموریل تیار کر کے لارڈ ایلین بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں ارسال کیا اور اسے چھاپ کر شائع بھی کر دیا۔ اس میں آپ نے ہز ایکسیلینسی کو بتلایا کہ فتنہ و فساد کا باعث اصلی مذہبی جھگڑے ہیں ان کے نتیجہ میں جو شورش لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے اسے بعض شریر گورنمنٹ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ (SEDATION)*