انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 360

رالعلوم جلد ۳ سرم سیرت مسیح موعود میں بے ایمانی نہیں کر سکتا۔اور یہ نہیں کیا کہ اپنے ہاتھ دھو کر مسیح موعود کو اس کے دشمنوں کی کے ہاتھ میں دے دیتے بلکہ انہوں نے آپ کو بری کیا اور اس طرح رومن حکومت پر برٹش راج کی برتری ثابت کر دی۔انہیں دنوں میں اپنے الصلح خیر کے نام سے ایک اشتہار شائع کر کے مسلمان علماء کے آگے تجویز پیش کی کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں اور آپ کو دشمنوں کا مقابلہ کرنے دیں۔اور اس کے لئے دس سال کی مدت مقرر کی۔کہ اس معیاد کے اندر اگر میں جھوٹا ہوں تو خود تباہ ہو جاؤں گا اور اگر سچا ہوں تو تم عذاب سے بچ جاؤ گے جو بچوں کی مخالفت کے سبب خدائے تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔لیکن مسلمانوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دشمنان اسلام سے مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے سے ہی مقابلہ پسند کیا۔اکتوبر ۱۸۹۷ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔وہاں سے شہادت دیکر جب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے یہاں جن جن گلیوں سے آپ گذرتے ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر برے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے۔میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گزرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں سیٹیاں بجاتے ہیں ؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈا شخص جس کا ایک پہونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا نہیں معلوم ہاتھ کے کتنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالباً مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ”ہائے ہائے مرزا انٹھ گیا" (یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا۔خصوصاً اس شخص پڑ اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر شخص کو دیکھتا رہا۔لاہور سے حضرت صاحب سیدھے قادیان تشریف لے آئے۔اس اسی سال ملک پنجاب میں طاعون پھوٹا۔اور جب کہ تمام مذہبی آدمی ان تدابیر کے سخت مخالف تھے جو گورنمنٹ نے انسداد طاعون کے متعلق نافذ کی تھیں آپ نے بڑے زور سے ان کی تائید کی اور اپنی جماعت کو آگاہ کیا کہ ان تدابیر کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسلام کا حکم ہے کہ ہر قسم کی تدابیر جو حفظان صحت کے متعلق ہوں ان پر عمل کیا جائے اور اس طرح