انوارالعلوم (جلد 3) — Page 362
م جلد ۳۰ ۳۶۲ سیرت مسیح موعود پس قانون سڈیشن میں سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہئے اور اس کے لئے آپ نے تین تجاویز پیش کیں۔(1) اول یہ کہ ایک قانون پاس کر دینا چاہئے کہ ہر ایک مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بیشک، بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہو گی۔اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری ہو گی۔اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیرو اس بات پر ناخوش ہوں کہ ان کو دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔(۲) اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود ان کے مذہب پر پڑتے ہوں یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے ہی مذہب میں موجود ہوں۔(۳) اگر یہ بھی نا پسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک فرقہ سے دریافت کر کے اس کی مسلمہ کتب مذہبی کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ اس مذہب پر ان کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔کیونکہ جب اعتراضات کی بنیاد صرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پیرو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر ان کے رو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ باہمی بغض و عداوت ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔اگر اس تحریک پر گورنمنٹ اس وقت عمل کرتی تو جو فتنے اور فساد ہندوستان میں پچھلے ونوں نمودار ہوئے وہ کبھی نہ ہوتے۔لیکن گورنمنٹ نے اس موقعہ پر اس ضرورت کو محسوس نہ کیا اور اس کے مدیران سلطنت کی آنکھ ان جراثیم کی بڑھنے والی طاقت کو نہ دیکھ سکی جنہیں اس نبئی وقت نے ان کی ابتدائی حالت میں دیکھ لیا تھا۔مگر ۱۹۰۸ء میں پورے دس سال بعد گورنمنٹ کو مجبوراً یہ قانون پاس کرنا پڑا کہ ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنا اور ناروا سختی کرنی درست نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس پمفلٹ یا مضمون کے چھاپنے والے پریس یا اخبار کی ضمانت لی جائے یا اسے ضبط کیا جائے۔لیکن یہ قانون اس قدر عرصہ کے بعد پاس ہوا کہ اس کا وہ اثر اب نہیں ہو سکتا جو اس وقت ہو سکتا تھا۔دراصل ہندوستان کے سارے فتنے کی جڑ مذہبی جھگڑا ہے جو بعض شریروں کی عجیب پیچ در پیچ سازشوں کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔اور جب کسی مذہب کے پیروؤں کی سب سے پیاری