انوارالعلوم (جلد 3) — Page 354
انوار العلوم جلد ۳۰ مل کر آپ کو دکھ دیتے ۔ ۳۵۴ سیرت مسیح موعود یکم جنوری ۱۸۹۶ء کو آپ نے اسلامی عظمت کے اظہار اور زبردست اسلامی شعار نماز جمعہ کے عام رواج کے لئے ایک کوشش کا آغاز فرمایا یعنی گورنمنٹ ہند سے تعطیل جمعہ کی تحریک کی کار روائی شروع کی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں جمعہ کے متعلق جو ان کے لئے مسیح موعود کا ایک زبردست عملی نشان تھا۔ ایسی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں کہ بعض شرائط کو ملحوظ رکھ کر جمعہ کی فرضیت پر ہی بحث چھڑ چکی تھی اور عملی طور پر جمعہ بہت جگہ متروک ہو گیا تھا۔ آپ نے اس کو زندہ کیا اور چاہا کہ گورنمنٹ جمعہ کی تعطیل منظور فرمائے ۔ اس بارہ میں جو میموریل گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجنا آپ نے تجویز فرمایا اس کی تیاری سے پہلے ہی مولویوں نے ا اپنی عادت کے موافق مخالفت کی اور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ حضرت مسیح موعود یہ کام محض للہیت سے کر رہے کر رہے تھے آپ کو کسی تحسین وداد کی تمنا نہ تھی آپ کا مدعا تو اس اہم دینی خدمت کا انجام پانا تھا خواہ کسی کے ہاتھ سے ہو ۔ آپ نے کل کام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی درخواست پر ان کے سپرد کر دینے کا اعلان کر دیا کہ وہ جمعہ کی تعطیل کے لئے خود کوشش کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو کریں۔ مگر افسوس انہوں نے اس مفید کام کو اس راہ سے روک دیا۔ مگر آپ کی یہ تحریک الہی" الہی تحریک تھی آخر خدا تعالیٰ نے آپ ہی کی جماعت کے ذریعہ اس کو پورا کیا۔ ۱۸۹۶ء کے اواخر میں چند لوگوں نے مل کر لاہور میں ایک مذہبی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے تمام مذاہب کے پیروان کو شامل ہونے کی دعوت دی جنہوں نے بڑی خوشی سے اس بات کو قبول کیا۔ بحث میں شرط تھی کہ کسی مذہب پر حملہ نہ کیا جارے اور حسب ذیل مضامین پر مختلف مذاہب کے پیروان سے مضامین لکھنے کی درخواست کی گئی۔ (1) انسان کی جسمانی اخلاقی اور روحانی حالتیں۔ (۲) انسان کی زندگی کے بعد کی حالت۔ (۳) دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔ (۴) گرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے۔ (۵) علم گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں ؟ اس کا نفرنس کا مجوز حضرت کی خدمت میں بھی قادیان حاضر ہوا۔ اور آپ نے ہر طرح ان