انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 355

۳۵۵ سیرت مسیح موعود کی تائید کا وعدہ کیا بلکہ اصلی معنوں میں اس کا نفرنس کی بنیاد خود حضرت مسیح موعود نے ہی رکھی تھی۔جو شخص بعد میں کانفرنس کا مجوز قرار پایا قادیان آیا تو حضرت نے یہ تجویز پیش کی تھی۔چونکہ آپ کی غرض دنیا کو اس صداقت سے آگاہ کرنا تھا جو آپ لیکر آئے تھے اور آپ کا ہر کام نمود و نمائش سے بالا تر ہو تا تھا۔اس لئے آپ نے اس شخص کو اس تحریک میں سعی کرنے پر آمادہ کیا اور اس کا پہلا اشتہار قادیان ہی میں چھاپ کر شائع کرایا۔اپنے ایک مرید کو مقرر کیا کہ وہ ہر طرح ان کی مدد کرے اور خود بھی مضمون لکھنے کا وعدہ کیا۔جب آپ مضمون لکھنے لگے تو آپ سخت بیمار ہو گئے اور دستوں کی بیماری شروع ہو گئی۔لیکن اس بیماری میں بھی آپ نے ایک مضمون لکھا اور جب آپ وہ مضمون لکھ رہے تھے تو آپ کو الہام ہوا کہ " مضمون بالا رہا " یعنی آپ کا مضمون اس کا نفرنس میں دوسروں کے مضامین سے بالا رہے گا۔چنانچہ آپ نے قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ یہ بات شائع کر دی کہ میرا مضمون بالا رہے گا۔اجلاسات کا نفرنس ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۱۸۹۷ء کو مقرر تھے۔جلسہ کے انتظام کے لئے چھ ماڈریٹر صاحبان مقرر تھے جن کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔(1) رائے بہادر پر تول چند ر صاحب حج چیف کورٹ پنجاب (۲) خان بهادر شیخ خدابخش صاحب حج سال کا زکورٹ لاہور۔(۳) رائے بہادر پنڈت رادھا کشن کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جنرل جموں۔(۴) حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب طبیب شاہی (۵) رائے بہادر بھوانی داس صاحب ایم اے اکسٹرا سیٹلمنٹ آفیسر جہلم (۲) سردار جو اہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لاہور۔اس کانفرنس کے لئے مختلف مذاہب کے مشہور علماء نے مضامین تیار کئے تھے اس لئے لوگوں میں اس کے متعلق بڑی دلچسپی تھی اور بہت شوق سے حصہ لیتے تھے اور یہ جلسہ ایک نہ ہی دنگل کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔اور ہر مذہب کے پیرو اپنے اپنے قائم مقاموں کی فتح دیکھنے کے خواہشمند تھے۔اس صورت میں تمام پرانے مذاہب جن کے پیرو کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں بالکل محفوظ تھے کیونکہ ان کی داد دینے والے لوگ جلسہ گاہ میں کثرت سے پائے جاتے تھے۔لیکن مرزا صاحب کا مضمون ایک ایسے جلسہ میں سنایا جانا تھا جس میں دوست برائے نام تھے اور سب دشمن ہی دشمن تھے۔کیونکہ اس وقت تک آپ کی جماعت دو تین سو سے زیادہ