انوارالعلوم (جلد 3) — Page 353
نقوم جلد ۳ ۳۵۳ سیرت صحیح موعود اور اندھے اکٹھے کئے اور عین دوران مباحثہ میں آپ کے سامنے لا کر کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ تو لولے لنگڑے اور اندھوں کو اچھا کیا کرتے تھے پس آپ کا دعوی تب ہی سچا ہو سکتا ہے جب کہ آپ بھی ایسے مریضوں کو اچھا کر کے دکھلا ئیں اور دور جانے کی ضرورت نہیں مریض حاضر ہیں۔جب انہوں نے یہ بات پیش کی سب لوگ حیران رہ گئے اور ہر ایک شخص محو حیرت ہو کر اس بات کا انتظار کرنے لگا کہ دیکھیں کہ مرزا صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ اور مسیحی اپنی اس عجیب کارروائی پر بہت خوش ہوئے کہ آج ان پر نہایت سخت حجت تمام ہوئی اور بھری مجلس میں کیسی خجالت اٹھانی پڑی ہے۔لیکن جب آپ نے اس مطالبہ کا جواب دیا تو ان کی ساری خوشی مبدل به افسوس و ندامت ہو گئی اور فتح شکست سے بدل گئی اور سب لوگ آپ کے جواب کی برجستگی و معقولیت کے قائل ہو گئے۔آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے مریضوں کو اچھا کرنا تو انجیل میں لکھا ہے ہم تو اس کے قائل ہی نہیں بلکہ ہمارے تی نزدیک تو حضرت مسیح کے معجزات کا رنگ ہی اور تھا تو انجیل کا دعوی ہے کہ وہ ایسے بیماروں کو جسمانی رنگ میں اچھا کرتے تھے اور اسی طرح ہاتھ پھیر کر نہ کہ دعا اور دوا سے۔لیکن اسی انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تم میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو تو تم لوگ اس سے بڑھ کر عجیب کام کر سکتے ہو۔پس ان مریضوں کا ہمارے سامنے پیش کرنا آپ لوگوں کا کام نہیں بلکہ ہمارا کام ہے۔اور اب ہم ان مریضوں کو جو آپ لوگوں نے نہایت مہربانی سے جمع کرلئے ہیں آپ کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ براہ مہربانی انجیل کے حکم کے ماتحت اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہے تو ان مریضوں پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اچھے ہو جاؤ۔اگر یہ اچھے ہو گئے تو ہم یقین کر لیں گے کہ آپ لوگ اور آپ کا مذہب سچا ہے ورنہ جو دعوئی آپ لوگوں نے خود کیا ہے اسے بھی پورا نہ کر سکیں تو پھر آپ کی صداقت پر کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے۔اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ مسیحی بالکل خاموش ہو گئے۔اور کچھ جواب نہ دے سکے اور بات ٹال دی۔اس کے بعد انہی دنوں تعطیل جمعہ کی کوشش اور مذاہب عالم کا عظیم الشان جلسہ الشان جلسہ ایک دفعہ فیروز پور تشریف لے گئے۔ان تمام سفروں میں ہر جگہ آپ کو دق کیا گیا اور لوگوں نے آپ کو بڑا دکھ دیا اور جو کچھ تحریر کے ذریعے شائع کیا گیا اس کی تو کوئی حد ہی نہیں۔جہاں آپ جاتے ہیں لوگ