انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 316

لوم جلد ۳ 1714 نجات کی حق گورنمنٹ ہی نہیں رہ سکتی۔مگر ساری دنیا کے شریعت چھوڑ دینے اور اس کے بالکل برعکس کرنے سے خدا خدا ہی رہتا ہے۔اس کی شان اور پاکیزگی میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آسکتا۔اس لئے قوانین سلطنت اور شریعت میں مشابہت ہی غلط ہے۔گورنمنٹ اس بات کی محتاج ہے کہ لوگ اس کے قوانین پر چلیں۔لیکن خدا محتاج نہیں ہے کہ لوگ شریعت پر عمل کریں۔خداتعالی نے تو اپنے رحم اور فضل سے شریعت کے احکام اس لئے نازل فرمائے ہیں کہ اگر تم ان پر عمل کرو گے تو خداتعالی سے تمہارا تعلق ہو جائے گا۔شریعت کی مشابہت شریعت کی مشابہت یونیورسٹی کے کورس سے صحیح ہے۔یونیورسٹی کے کورس سے دی جاسکتی ہے۔یونیورسٹی میں مثلاً کسی مصنف کی تاریخی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔لیکن اس کے پڑھانے کا یہ مقصد نہیں ہو تا کہ اس خاص شخص کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھی جاوے۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والے میں ایک حد تک تاریخ دانی کی قابلیت پیدا ہو جائے یہی وجہ ہے کہ کتابیں بدل دی جاتی ہیں۔اور جو مفید اور مناسب سمجھی جاتی ہیں انہیں پڑھایا جاتا ہے پھر یونیورسٹی امتحان کے لئے کچھ سوال مقرر کرتی ہے لیکن کوئی طالب علم ایسا نہیں ہوتا جو تمام سوالوں کے تمام و کمال جواب دے سکے۔تاہم ہر سال ہزاروں طلباء پاس ہوتے ہیں۔حالانکہ ان میں سے ہر ایک نے کچھ نہ کچھ غلطیاں کی ہوتی ہیں۔ان کے پاس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کی غرض ان سے سارے سوال پورے کرانا نہیں بلکہ ایک حد تک استعداد پیدا کرنا ہے۔جب کسی میں اس حد تک استعداد پیدا ہو جاتی ہے تو وہ پاس کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح شریعت ہے۔خدا تعالیٰ نے کچھ احکام بیان فرمائے ہیں۔تاکہ ان کے ذریعہ انسان میں خدا سے تعلق پیدا کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔چنانچہ نماز پڑھنے کا حکم اس لئے نہیں کہ اٹھائے بیٹھائے بلکہ اس لئے ہے کہ پاکیزگی پیدا ہو۔روزہ رکھنے کا اس لئے ارشاد نہیں کہ بھوکا رکھا جائے۔بلکہ اس لئے ہے کہ تقویٰ حاصل ہو۔اسی طرح تمام دوسرے احکام کے متعلق ہے۔جب کوئی انسان ان پر اس وقت تک عمل کر لیتا ہے کہ اس میں استعداد پیدا ہو جاتی ہے تو وہ پاس ہو جاتا ہے جس طرح یونیورسٹی میں ۴۰ یا ۶۰ یا ۸۰ فیصدی نمبر پاس ہونے کے لئے رکھے ہوتے ہیں اور اتنے نمبر حاصل کرنے والا پاس ہو جاتا ہے اسی طرح شریعت کے احکام کے متعلق بھی استعداد دیکھی جاتی ہے۔