انوارالعلوم (جلد 3) — Page 315
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳۱۵ نجات کی حقیقت مسیحی مذہب کا دعوی ہے کہ مسیحی مذہب والوں کو اعمال کے متعلق کیا دھوکا لگا انسان کو اس لئے نجات حاصل نہیں ہو سکتی کہ انسان گنہگار ہے اور شریعت کے احکام کو پورا نہیں کر سکتا۔کیونکہ شریعت کے ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم کی خلاف ورزی کرنا بھی گناہ ہے اور کوئی انسان نہیں ہے ہے جو تمام احکام کو پورا کر سکے۔پس جبکہ کوئی انسان ایسا نہیں کر سکتا۔تو ضرور ہے کہ جو گناہ اس سے سرزد ہوں۔ان کی اسے سزا ملے۔جس طرح گورنمنٹ کے اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کی جائے تو وہ سزا دیتی ہے اسی طرح جو کوئی خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے گا وہ ضرور سزا پائے گا۔اس سے ثابت ہوا کہ شریعت پر چل کر کوئی نجات نہیں پاسکتا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ عیسائی مذہب والوں کو یہ دھوکا لگا ہے۔اور انہوں نے تمام شریعت پر عمل کرنا انسان کی نجات کے لئے اصل قرار دیکر یہ سمجھ لیا ہے کہ چونکہ کوئی انسان شریعت کی ساری شرائط کو پورا نہیں کر سکتا۔اس لئے خدا سے نجات بھی نہیں دیتا لیکن اسلام یہ نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کو کسی کے عبادت کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔خدا تعالی کی ذات اس سے مستغنی ہے۔کسی کی عبادت کرنے یا شریعت پر چلنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اور کسی کی عبادت نہ کرنے یا شریعت کے احکام پر عمل نہ کرنے سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ساری دنیا اگر دن رات اس کی تقدیس اور تحمید میں لگی رہے تو اس کا کچھ بڑھ نہیں جاتا۔اور اگر ساری دنیا گندی اور بد کار ہو جائے تو اس کی شان میں کچھ کمی نہیں آسکتی۔پس خدائے تعالیٰ نے شریعت اس لئے نہیں بھیجی کہ اس سے اس کا فائدہ ہے بلکہ اس لئے کہ انسان اس کے محتاج ہیں۔اگر کوئی اس پر عمل کرے گا تو وہ اعمال اس کو فائدہ دیں گے۔تو خدا تعالی کا شریعت کو بھیجنے سے صرف یہی مقصد نہیں کہ لوگ اس کے ہر ایک حکم پر عمل کریں بلکہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسان خدا تعالی تک پہنچ جائے یعنی اعمال کے ذریعہ وہ استعداد پیدا کرنی مقصود ہے جس سے انسان کی روح ایسی پاک ہو جائے کہ اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو سکے۔اس لئے ہم قوانین سلطنت و شریعت میں مشابہت قائم کرنا غلطی ہے۔خداتعالی کی شریعت کو گورنمنٹ کے قوانین سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔کیونکہ گورنمنٹ کا مدعا صرف قوانین پر عمل کرانا ہوتا ہے تاکہ امن قائم رہے۔اگر لوگ چوری کریں ، ڈاکے ڈالیں ، رہزنی کریں تو