انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 317

ظوم جلد - ۳۱۷ نجات کی عیسائی صاحبان یہ تو کہتے ہیں کہ کیا شریعت کے جس حکم پر انسان عمل نہیں کرتا وہ خدا کی طرف سے نہ تھا۔لیکن یہ نہیں کہتے کہ کیا امتحان کے جس سوال کو طالب علم حل نہیں کرتا۔وہ یونیورسٹی کی طرف سے نہیں تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح یونیورسٹی باوجود بعض سوالات کے حل نہ کئے جانے کے قابلیت کی ایک حد کو دیکھ کر پاس کر دیتی ہے۔اسی طرح شریعت کے سب احکام کو پورا نہ کرنے کی حالت میں بھی جبکہ انسان ایک خاص حد تک استعداد پیدا کر لے نجات پاسکتا ہے۔ہاں جسطرح زیادہ نمبر حاصل کرنے والا اعلیٰ درجہ پر پاس ہوتا ہے اسی طرح شریعت کے احکام کے ذریعہ زیادہ استعداد پیدا کرنے والا اعلیٰ مرتبہ پر ہوتا ہے۔اگر نجات میں شریعت کا تعلق نہیں اور خدائے تعالیٰ کے حضور اس لحاظ سے مدارج ہیں۔اور مدارج کو مسیحی صاحبان بھی تو پھر عیسائی مدارج کیوں مانتے ہیں۔مانتے ہیں چنانچہ انبیاء کے درجوں میں فرق کرتے ہیں۔مسیحی صاحبان جو درجہ حضرت ابراہیم کو دیتے ہیں وہ کسی اور نبی کو نہیں دیتے۔لیکن نجات کو اگر اعمال کے لحاظ سے نہ مانا جائے تو پھر مدارج میں بھی فرق نہیں ہونا چاہئے۔اسلام نے اعمال کے مطابق ہی مدارج قرار دیئے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آیا ہے۔وَالوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقِّ فَمَنْ ثَقَلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينه فَا وَلَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوا بِايَتِنَا يَظْلِمُونَ (الاعراف : 9-10) یعنی قیامت کے دن ہر ایک کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔اگر کسی نے اس حد تک عمل کئے ہوں گے۔کہ اس میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی استعداد پیدا ہو گئی ہوگی۔تو اس کی چھوٹی چھوٹی فروگذاشتوں کو معاف کر دیا جائے گا۔جس طرح یونیورسٹی بھی باوجود تمام سوالات کے حل نہ کرنے کے پاس کر دیتی ہے اس سے ثابت ہو گیا کہ اگر شریعت کے تمام احکام پر باوجودیکہ اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کی جائے۔عمل نہ ہو سکے۔تو انسان نجات پاسکتا ہے۔ہم اس بات کے قائل نہیں کہ انسان لیکن ہم تو اس بات کو قبول ہی نہیں کرتے کہ تمام شریعت پر عمل نہیں کر سکتا۔انسان تمام احکام پر عمل نہیں کر سکتا۔عیسائی صاحبان تعزیرات ہند پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ضرور کرتے ہیں۔کیونکہ ان کا آزاد پھرنا اس بات کا ثبوت ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کرتے تو سزا پاتے۔لیکن قرآن کریم تو اس سے بہت چھوٹا ہے۔پھر اس پر کیوں عمل نہیں