انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 280

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۸۰ اسلام اور دیگر مذاہب وقت دے اور معاف کس وقت کر۔اور جب تک مذہب انسان کو اسباب کی بھی ہدایت نہ کرتا ہو اس وقت تک اس کی تعلیم کامل نہیں کہلا سکتی۔اس بیان کے بعد اب ہم مذہبی اعداء کو لیتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس قسم مذہبی عداوتیں کے سلوک کا اسلام نے حکم دیا ہے سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام مذہبی اختلاف اور عداوت کو دو الگ الگ چیزیں قرار دیتا ہے۔اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ جن لوگوں کو تم سے مذہبا اختلاف ہے تم ان کو اپنا دشمن سمجھو اور ان سے دشمنوں کا سا سلوک کرو بلکہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم تمام مذاہب کے پیروان کے ساتھ نیکی اور بھلائی کا سلوک کرد اور مذہبی اختلاف کو عداوت نہ سمجھو اور ایسے لوگ جو مذہبی طور پر تم سے کوئی عداوت نہیں رکھتے اور تم پر مذہبی اختلافات کی وجہ سے کوئی ظلم نہیں کرتے ان سے بے شک احسان اور مروت سے پیش آؤ اور ان سے نیک معاملہ کرو اور انصاف کے ساتھ ان سے سلوک کرو۔لیکن جو لوگ کہ دین کے معاملہ میں جبر سے کام لیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کے خلاف کوئی اور عقیدہ نہیں دیکھ سکتے ان سے بالکل قطع تعلق رکھو کیونکہ یہ بات غیرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص تمہارے دین کو تلوار کے ساتھ مٹانا چاہے اور خدا اور اس کی کتاب کو گالیاں دے اور تم اس سے دوستی رکھو چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ، إِنَّمَا يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَآخَرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِ كُمْ وَظَاهِرُوا عَلَى اِخْوَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ ، وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَا وَاليْكَ هُمُ۔الظَّلِمُونَ (التحنہ : (109) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے جو دین کے معاملہ میں تم سے نہیں لڑتے اور جنہوں نے دینی عداوت سے تم کو گھروں سے نہیں نکالا۔نیکی اور حسن سلوک کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ہاں وہ تو ان لوگوں کے ساتھ دوستی و تعلق رکھنے سے روکتا ہے جو تم سے اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ تم نے یہ دین کیوں اختیار کر لیا اور تم کو اسی باعث سے گھر سے بھی نکال دیا اور تمہارے دشمنوں کے مددگار ہوئے۔ایسے لوگوں سے جو دوستی کرتا ہے وہ ظالم ہے۔کیونکہ وہ اسے اس کے فعل بد پر اکسانے کا باعث ہوتا ہے اور اس کے عمل سے اس دشمن دین کے دل میں خیال پیدا ہو گا کہ دیکھو باوجود اس کے کہ میں ان کے دین کو گالیاں دیتا ہوں یہ شوق سے ملتا ہے تو ضرور ہے۔