انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 281

العلوم جلد ۳ ۲۸۱ اسلام اور دیگر مذاہب کہ یہ مجھ سے متاثر ہو جائے۔اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص غیرت سے خالی ہوتی جائے تو رفتہ رفتہ وہ دوسروں کے خیالات سے متاثر ہو جاتا ہے پس حفاظت دین کے لئے اور غیرت جیسے اعلیٰ درجہ کے خلق کو زندہ رکھنے کے لئے ایسی تعلیم دینی ضروری تھی کہ جو شخص دین کے معاملہ میں لڑنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور اپنے عقیدہ کے خلاف عقیدہ سن کر ایسا آگے بگولہ ہو جاتا ہے کہ انسانیت کی معمولی شرائط کو بھی پورا نہیں کر سکتا وہ کب اس لائق ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ دوستی رکھی جائے اور اگر کوئی شخص پھر بھی اس شخص سے محبت رکھتا ہے تو ضرور اس کا دل غیرت سے خالی ہے۔غرض اس تعلیم میں بھی اسلام نے افراط و تفریط دونوں نے باتوں کو چھوڑ کر درمیانی راہ اختیار کی ہے اور ایک طرف تو محبت اور پیار کو قائم کیا ہے اور دوسری طرف غیرت کو جو اخلاق حسنہ سے ہے اور جس کے بغیر انسان حیوانوں کی طرح ہو جاتا ہے زندہ رکھا ہے نا ایسا نہ ہو کہ اسلام کا پیرو کسی ایک طرف جھک جائے اور یہ وہ تعلیم ہے کہ جس کا مقابلہ نہ تو وہ مذاہب کر سکتے ہیں جو غیر مذاہب کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں قرار دیتے اور نہ وہ جو باوجود شدید سے شدید مذہبی عداوت کے پھر بھی محبت کا حکم دیتے ہیں۔کیونکہ وہ انسانی فطرت کو توڑتے ہیں جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔اس کے بعد اب میں ان لوگوں کے متعلق اسلام کی عام بنی نوع انسان سے سلوک تعلیم پیش کرتا ہوں جن سے انسان کسی قسم کا ذاتی تعلق نہیں رکھتا۔چنانچہ اس قسم میں سے سب سے اول تو بتائی اور مساکین ہیں۔گو یتیم اور مسکین ایک رشتہ دار بھی ہو سکتا ہے۔لیکن چونکہ یتیم اور مسکین کے ساتھ سلوک کرنے میں اسلام نے کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ کن میں سے ہو اس لئے میں ان کو عام مخلوق کے عنوان کے نیچے ہی رکھتا ہوں۔کیونکہ اکثر اوقات جن بتائی اور مساکین سے پالا پڑتا ہے وہ غیر ہی ہوتے ہیں۔ان دونوں قسموں کے متعلق اسلام میں نہایت وسیع احکام ہیں جنہیں اس وقت بیان نہیں کیا جاتا سکتا کیونکہ آگے ہی مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے اس وقت صرف اس قدر ہی بیان کر دینا کافی ہے کہ بتائی اور مساکین سے نیک سلوک کرنے کا اسلام میں نہایت زور سے حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ بعض اس کے متعلق اوپر مضامین آچکے ہیں۔اس جگہ صرف یہ بات ہی لکھ دینی کافی ہوگی کہ قرآن کریم بتائی کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنے کو ان اعمال میں سے قرار دیتا ہے جن کا نتیجہ ذلت و رسوائی ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں پر عذاب آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا