انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 143

العلوم جلد - ۱۴۳ نہیں۔اس کے متعلق انہوں نے لوگوں سے پوچھا لیکن تسلی نہ ہوئی فرمایا دین کے معاملہ میں کیا شرم ہے آنحضرت ا کی عورتوں سے پوچھنا چاہئے۔پھر انہوں نے اپنی لڑکی سے پوچھا جس نے بتایا کہ غسل کرنا فرض ہے رسول کریم اسی طرح کیا کرتے تھے۔پس اگر آپ کی بیویاں آپ سے اس قسم کے احکام نہ سیکھتیں تو یہ باتیں ہم تک کس طرح پہنچتیں۔حالانکہ ان میں سے بعض ایسے مسائل ہیں کہ اگر ان کے متعلق معلوم نہ ہوتا تو ہمارا آرام حرام ہو جاتا زندگی مشکل ہو جاتی اور جینا دو بھر معلوم ہوتا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔او مردو ! کیا تم اپنے آپ کو عورتوں سے بڑا سمجھتے ہو۔تم دونوں کو ہم نے ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے۔پھر تم کیوں ان کو اپنے سے علیحدہ سمجھتے ہو۔ان کو بھی اپنی طرح کا ہی سمجھو اور جو بات اپنے لئے ضروری خیال کرتے ہو وہی ان کے لئے کرو۔خدا تعالیٰ کے اس حکم کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ مرد یہ تو کرے گا کہ عورت کو اچھے کپڑے پہنا دے عمدہ زیور بنوا دے لیکن وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ اس کو دین سکھانا بھی ضروری ہے۔کیا لوگ اچھے کپڑے میزوں اور کرسیوں پر نہیں ڈالتے۔اور کیا لوگ گھنگرو اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں نہیں پہناتے۔پس جب ان حیوانوں اور بے جان چیزوں کی آرائش کے لئے بھی رہی کچھ کیا جاتا ہے تو عورتوں اور ان میں فرق کیا رہا۔در حقیقت جو شخص عورت کو صرف ظاہری زینت کا سامان دے کر سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا وہ عورت پر کوئی احسان نہیں کرتا اور نہ اس کا ہمدرد ہے بلکہ وہ خود اپنی خوشی کا طالب ہے کیونکہ عورت کی زینت مرد کی خوشی کا باعث ہوتی ہے پس عورت کا صرف یہی حق نہیں کہ اس کے جسمانی آرام کا مرد خیال رکھے بلکہ اس سے زیادہ کی وہ حقدار ہے اس کا حق ہے کہ جس طرح انسان خود دین سے واقف ہو اسی طرح اسے بھی دین سے واقف کرے۔غرض دین کی تعلیم عورتوں کو بھی ضرور دینی چاہئے کیونکہ جب تک دونوں پہلو درست نہ ہوں اس وقت تک انسان خوبصورت نہیں کہلا سکتا۔کیا کانا آدمی بھی خوبصورت ہوا کرتا ہے۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اگر کسی کی ایک آنکھ جاتی رہے تو اسے برا معلوم ہوتا ہے۔لیکن بہت سے ایسے ہیں جو بیوی کی طرف سے کانا بننے کو محسوس بھی نہیں کرتے۔میں تو باوجود اس کے کہ اور بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں گھر میں ضرور پڑھاتا ہوں کیونکہ عورتوں کو پڑھانا بہت ضروری ہے۔خدا تعالیٰ نے مرد و عورت کے لئے زوج کا لفظ رکھا ہے۔