انوارالعلوم (جلد 3) — Page 142
وم جلد ۳۰ انوار خلافت ہوں۔لیکن یہ غلط ہے اور بالکل غلط ہے۔اگر باپ نیک ہے اور بیٹا بد۔تو باپ ہی بخشا جائے گا اور بیٹا سزا پائے گا اور اگر ایک بھائی نیک ہے اور دوسرا بد تو نیک ہی جنت میں جائے گا اور دوسرا دوزخ میں۔اگر خاوند نیک ہے اور بیوی بد تو خاوند ہی خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث ہوگا اور بیوی خدا کے غضب کی۔پس تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے پڑھ لینے سے یا علم دین سے واقف ہو جانے سے تمہارے بیوی بچے بھائی بہن وغیرہ بخشے جائیں گے بخشا وہی جائے گا جس کا دل صاف ہو گا اور دل صاف سوائے علم کے ہو نہیں سکتا۔پس جس طرح تم اپنے لئے پڑھنا ضروری سمجھتے ہو اسی طرح ان کے لئے بھی پڑھنا ضروری سمجھ کر ان کو پڑھاؤ تا تمہارے گھر ایسے نہ ہوں کہ صرف تم ہی قرآن جاننے والے ہو اور باقی جاہل بلکہ تمہاری عورتیں بھی جانتی ہوں۔خدا تعالی ، ملائکہ سزاء جزاء قضاء و قدر وغیرہ سب احکام سے واقف ہوں۔خدا تعالیٰ نے عورتوں کو مردوں کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔اور جہاں مردوں کے لئے حکم آیا ہے وہاں عورتوں کو بھی ساتھ ہی رکھا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ن (اسماء) (٢٤) اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے۔اور تم میں سے ہی تمہارا جوڑا پیدا کیا ہے۔پھر ان دونوں سے بہت سی جانیں نکالی ہیں جو بہت سے مرد ہیں اور بہت سی عورتیں۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جسکے نام سے تم سوال کرتے ہو۔اور قرابتوں کا۔بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ کا حکم صرف مردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی ہے۔پس ان کو بھی دین سے واقف کرو۔آنحضرت کی کی عورتیں دین سے بڑی واقف تھیں یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم نصف دین عائشہ سے سیکھ سکتے ہو اور واقعہ میں آدھا دین حضرت عائشہ نے سکھایا ہے۔لوگوں نے اس کے غلط معنے گئے ہیں کہ اس طرح ان کو حضرت ابو بکرہ حضرت عمر وغیرہ پر فضیلت ہو گئی ہے لیکن یہ غلط ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ نے حضرت عائشہ کی فضیلت بتائی ہے بلکہ یہ عورتوں کے متعلق جو احکام ہیں وہ ان سے سیکھو۔چنانچہ جب بھی صحابہ کو عورتوں کے متعلق کسی بات میں مشکل پیش آتی تو ان سے ہی پوچھتے۔حضرت عمرؓ کو ایک دفعہ یہ دقت پیش آئی کہ مرد عورت سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تو غسل کرنا چاہتے یا