انوارالعلوم (جلد 3) — Page 144
۱۴۴ انوار خلافت بعض لوگوں نے اس کے معنی میاں یا بیوی کے کئے ہیں۔اور بعض نے جوڑا کئے ہیں۔لیکن عربی زبان میں زوج اس شے کو کہتے ہیں جس کے ملے بغیر ایک دوسری شے نامکمل رہے۔جوتیوں کے جوڑا میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں کیونکہ صرف ایک جوتی کام نہیں دے سکتی۔پس خدا تعالٰی نے میاں بیوی کا نام زوج رکھ کر بتایا ہے کہ بیوی کے بغیر میاں اور میاں کے بغیر بیوی کسی کام کی نہیں ہوتی۔پس جب مرد و عورت کا ایسا تعلق ہے تو غور کرنا چاہئے کہ عورتوں کو دین سے واقف کرنا کس قدر ضروری ہوا۔ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عورتوں کو دین سے واقف نہیں کیا ان کا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے بیوی بچے غیر احمدی ہو گئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان کو کچھ نہ سکھایا۔خاوندوں کی وجہ سے وہ احمدی ہو گئیں جب خاوند مر گیا تو انہوں نے بھی احمدیت کو چھوڑ دیا۔اگر کوئی عورت مرجائے تو خاوند اس کا جنازہ پڑھتا ہے۔لیکن نہیں جانتا کہ اس حالت میں جبکہ میں نے اپنی عورت کو دین سے واقف نہیں کیا میرا جنازہ پڑھنا کیا فائدہ دے گا۔مذہب اسلام کوئی ٹھٹھا نہیں بلکہ اس کی ہر ایک بات اپنے اندر حقیقت رکھتی ہے جنازہ بھی ایک حقیقت رکھتا ہے اس طرح نہیں کہ جنازہ پڑھا اور مرنے والا بخشا گیا جنازہ تو ایک دعا ہے جو نیک بندے مردہ کے لئے اس طرح کرتے ہیں کہ اے خدا! تیرا یہ انسان بہت نیکیاں کرتا رہا ہے لیکن اگر اس نے کوئی تیرا تصور بھی کیا ہے تو اسے ان نیکیوں کی وجہ سے بخش دے۔لیکن وہ شخص جو زندگی میں اپنی عورت کو دین سے ناواقف رکھتا ہے وہ کس مونہہ سے کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے بخش دے۔غرض بیویاں انسان کا آدھا دھڑ ہیں۔آنحضرت اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیویوں میں انصاف نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا ہو گا۔اس سے آپ نے بتایا ہے که عورت در حقیقت انسان کا جزو بدن ہے۔وہ شخص جو اپنی بیوی کو علم نہیں پڑھاتا وہ بھی اس سے نا انصافی کرتا ہے اسے بھی اس وعید سے ڈرنا چاہئے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کی بیوی بیمار ہو تو گھبراتا ہے علاج معالجہ کے لئے ادھر ادھر بھاگا پھرتا ہے دعا کے لئے ہماری طرف تاریں بھیجتا ہے لیکن اگر بیوی روحانی بیماری میں مبتلا ہو تو اسے کوئی فکر نہیں ہوتا۔اگر بیوی کے سر میں درد ہو تو میری طرف لکھتے ہیں کہ دعا کی جائے۔لیکن اگر نماز روزہ کی تارک ہو۔تو پتہ بھی نہیں دیتے۔اگر کھانسی ہو تو حکیم کے پاس دوڑے جاتے ہیں۔لیکن اگر زکوۃ نہ دیتی ہو بخل