انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 136

انوار ١٣٩ F۔پڑھا ہے۔پس خواہ کوئی کتنی عمر کا ہو اور اس کو لکھنا پڑھنا بھی نہ آتا ہو تب بھی اگر وہ کوشش کرے تو علم دین سیکھ سکتا ہے۔میں نے ان مشکلات کے دور کرنے کے لئے جو قرآن شریف پڑھنے والوں کو پیش آتی ہیں کچھ تدابیر کی ہیں۔جو امید ہے انشاء اللہ مفید ثابت ہو نگی۔پہلی یہ تدبیر کی ہے کہ قرآن شریف کے پہلے پارہ کا اردو میں ترجمہ کروا کے چھپنے کے لئے بھیج دیا ہے جو انشاء اللہ کل تک تیار ہو کر آجائے گا ( آ گیا تھا) اس ترجمہ کے ذریعہ انشاء اللہ قرآن کریم کے تیسویں حصہ کے سمجھنے کے قابل تو انشاء اللہ ہماری جماعت کے لوگ ہو جائیں گے۔دوسری تدبیر میں نے یہ کی ہے کہ قرآن شریف کے متعلق ایسے سبق تیار کرائے ہیں کہ جن کی مثال ! اس سے پہلے نہیں ملتی۔وہ بھی کل پر سوں تک تیار ہو جائیں گے اور جو پرسوں تک ٹھہریں گے وہ لے سکیں گے اور جو نہیں ٹھہریں گے وہ منگوا سکتے ہیں۔جو لوگ ان اسباق کو پڑھنا چاہیں وہ اپنے نام اور پتے دفتر ترقی اسلام میں لکھا دیں۔ان اسباق میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ ہر لفظ کے معنی علیحدہ علیحدہ لکھ دیئے ہیں۔مثلاً بسم اللہ لکھ کر اس کی یوں تشریح کر دی ہے کہ ب کے معنی ساتھ۔اسم کے معنی نام۔اور اللہ ایک ایسی ذات کا نام ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔اسم ذات ہے۔امید ہے کہ اگر کوئی ان اسباق کو چار پانچ پارے تک پڑھ لے گا۔تو سارا قرآن پڑھ سکے گا۔ان اسباق کو نمونے کے طور پر پہلے میں نے خود لکھا اور پھر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو دیا۔انہوں نے فی الحال سورۃ فاتحہ کے سبق لکھے ہیں۔ان اسباق کے ساتھ یہ بھی تجویز کی ہے کہ پڑھنے والوں کے ہوشیار کرنے کے لئے ان کے ساتھ سوالات بھی لکھے گئے ہیں جن کا جواب لکھ کر بھیجنا ہر ایک طالب علم کا فرض ہو گا۔مثلاً بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کا سبق ختم ہونے کے بعد ایسے سوال دے دیئے گئے ہیں کہ کہ خفن کے کیا معنی ہیں آئی کے کیا معنی و ہیں۔اور ان سوالوں کے جواب دینے کے لئے یہ شرط ہے کہ سبق دیکھنے کے بغیر ان کا جواب دیا جائے۔جواب کے پرچے تمام طالب علموں کو یہاں بھیجنے ہوں گے۔اور یہاں ایک استادان کو درست کر دے گا۔اور انہیں لکھ دے گا کہ تم نے فلاں فلاں غلطی کی ہے جو درست کر دی ہے۔اس طرح ہماری ساری جماعت کے لوگ جہاں جہاں بھی ہوں گے وہیں قرآن شریف سیکھ لیں گے۔ہمارا کام ہے کہ چیز تیار کر کے قوم کو دے دیں آگے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ فائدہ اٹھائے۔ہم کسی کو زبردستی نہیں سکھا سکتے اس لئے جس کا دل چاہتا ہے خدا تعالیٰ کی