انوارالعلوم (جلد 3) — Page 135
لوم جلد " ۱۳۵ انوار خلافت موجود ہے اور اب تو چھپنے کی وجہ سے اس کا خرید نا نہایت آسان ہو گیا ہے آٹھ آٹھ آنہ کو مل سکتا ہے۔کیا اب بھی یہ مہنگا ہے یا اس کے خریدنے میں کوئی مشکل در پیش ہے ہر گز نہیں۔پس آپ لوگوں کو میں نصیحت کرتا ہوں اور میرا فرض ہے کہ تمہیں نصیحت کروں کیونکہ میں اگر نہ کروں تو گنہگار ہوں گا کہ آپ لوگ قرآن شریف پڑھیں۔حدیث کی کتابوں کو پڑھیں حدیثوں کے ترجمے ہو گئے ہیں۔وہ لوگ جو عربی نہیں پڑھ سکتے وہ ترجمہ دیکھ کر پڑھ لیا کریں۔پھر حضرت مسیح موعود کی اردو کتابیں ہیں ان کو پڑھیں۔آج ہم میں جو یہ اتنا بڑا جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت صاحب کی کتابوں کے پڑھنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ان کا پڑھنا ضروری نہیں سمجھا۔اور اگر پڑھا تو اس وقت پڑھا جبکہ ان کے دل میں بیٹھ چکا تھا کہ اگر ہم نے غیر احمدیوں میں حضرت صاحب کا ذکر کیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے اور چندہ نہیں دیں گے۔اگر یہی لوگ پہلے پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔پس حضرت مسیح موعود کی کتب کا پڑھنا بھی نہایت ضروری ہے۔اگر وہ لوگ بھی حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔آپ لوگوں کے لئے علم پڑھنے کے کئی ذرائع ہیں۔اول یہ کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے ہر مہینہ میں ایک یا دو یا تین دفعہ یہاں آئیں اور قرآن شریف پڑھیں۔اور یہ مت خیال کریں کہ اس طرح تو بہت عرصہ میں جاکر قرآن کریم ختم ہو سکے گا کیونکہ آنحضرت الی فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی نیک کام کا ارادہ کر لے اور اس کے کرنے سے پہلے مرجائے تو خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی طرح دیتا ہے جس طرح کہ گویا اس نے وہ کام کر ہی لیا۔پس تم میں سے اگر کوئی یہ ارادہ کر لے گا۔اور خدانخواستہ فوت ہو جائے گا تو اس کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا اس شخص کو ملے گا جس نے قرآن کریم بھی ختم کر لیا۔تم خدا کے لئے وقت نکالو اور یہاں آکر اس کے احکام سیکھو۔اگر کوئی ملازم ہیں تو چھٹی لے کر آئیں اور علم دین کو پڑھیں۔اور جو ان پڑھ ہیں وہ پڑھنا سیکھیں اور اگر نہیں پڑھ سکتے یعنی حافظہ کمزور ہے تو دوسروں کی زبانی سنیں۔صحابہ میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو بہت کچھ زبانی یاد رکھتے تھے۔اور بلا اس کے کہ ان کو لکھنا پڑھنا آئے دین کے پورے عالم تھے اور یہ مشکل بات نہیں حافظ روشن علی صاحب نے سب زبانی سن کر ہی حاصل کیا ہے اور بہت بڑے عالم ہیں۔انہوں نے اسی طرح علم پڑھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کتاب پڑھتے جاتے اور وہ سنتے جاتے۔اسی طرح انہوں نے سارا علم