انوارالعلوم (جلد 3) — Page 134
انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۳۴ اتوار خلافت ثواب اسے حاصل نہیں ہو تا۔اسی طرح ایک شخص زکوۃ دیتا ہے۔مگر کئی ایسی باتیں ترک کر دیتا ہے جن کی وجہ سے وہ پورے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ایسے آدمیوں کو اپنے اپنے اخلاص کا ثواب تو ملے گا۔لیکن کیا ان کو ایسا ہی ثواب مل سکتا ہے جیسا ایک ایسے شخص کو ملے گا جو اپنے علم کی بناء پر اپنی عبادت کو تمام شرائط کے ساتھ بجا لاتا ہے ہرگز نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک انسان علم حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ پورے ثواب کا مستحق ہو سکے۔اور جب تک علم نہ ہو یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی۔میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے بعض لوگ جو بڑے بڑے علماء بنتے ہیں اور پاک ممبر کہلاتے ہیں ان میں سے ایک شخص ایسی حالت میں جرابوں پر مسح کر کے نماز پڑھتا تھا جبکہ اس کی جراب ایسی پھٹی ہوئی تھی کہ اس کی ایڑیاں بالکل ننگی ہو گئی تھیں اور وہ غریب بھی نہ تھا بلکہ اس وقت ایک معقول تنخواہ پر ملازم تھا۔اس کی کیا وجہ تھی یہی کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کی کیا شرائط ہیں۔تو دین کے متعلق علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ممکن ہے کہ تم میں سے بہت سے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں دین کی واقفیت ہے۔غیر احمدی ہمیں مولوی کہتے ہیں اور ہم سے مسائل پوچھتے ؟ ہیں اور عالم سمجھتے ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں ان کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں تم عالم نہیں ہو۔کوئی تمہیں ہزار عالم کے اگر خدا کی نظر میں تم اس کے دین کے عالم نہیں ہو تو کچھ نہیں ہو۔خوب یاد رکھو کہ جب تک تم خدا تعالیٰ کے لئے علم نہ سیکھو اور اس کی نظر میں عالم نہ ٹھہرو اس وقت تک ان انعامات کے مستحق نہیں ہو سکتے جو اپنے علوم حاصل کرنے والوں کو خدا تعالیٰ دیا کرتا ہے۔صحابہ پڑھے ہوئے لوگ نہ تھے بلکہ بعض تو ان میں سے اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔لیکن دین کی ان میں ایسی محبت تھی کہ رسول کریم ال سے باتیں سن کر نہایت احتیاط سے یاد کر لیتے تھے اور جو خود نہ سنتے وہ دوسروں سے پوچھ کر حفظ کر لیتے۔اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرتے کہ اپنے سے چھوٹا بات بتا رہا ہے یا بڑا۔اگر کسی چھوٹے کی نسبت بھی سنتے کہ اس کو فلاں بات یاد ہے تو اس تک پہنچتے اور اس سے سن کر یاد کر لیتے۔وہ جب تک رسول کریم کی بات سن نہ لیتے انہیں چین نہ آتا تھا۔لیکن ان کے لئے جو مشکلات تھیں وہ ہمارے لئے نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں محدثوں پر کہ انہوں نے ہمارے لئے بہت سی مشکلوں کو آسان کر دیا ہے حدیثیں چھپی ہوئی موجود ہیں جن کو ہر ایک شخص خرید سکتا ہے۔قرآن شریف کا تو خدا تعالیٰ حافظ تھا اسے کون مٹا سکتا تھا وہ