انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 133

١٣٣ انوار خلاف انوار العلوم جلد - برابر بھی نہیں ہے پھر کیوں اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔بیشک تم دنیا کے کام کرو۔لیکن تمہارا یہ بھی کام ہے کہ قرآن شریف کے سیکھنے کی کوشش کرو۔قرآن شریف میں وہ حکمت و اور وہ معرفت ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو حیران ہو جائے۔میں تو قرآن شریف کی ایک ایک زیر اور زیر پر حیران ہو ہو جاتا ہوں۔قرآن شریف میں بظاہر ایک لفظ ہوتا ہے لیکن بڑے بڑے مضامین ادا کرتا ہے۔قرآن شریف کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ انسان اس کی طرف سے مونہہ موڑ لے اور توجہ نہ کرے۔خصوصاً ہماری جماعت کا فرض ہے کہ قرآن شریف کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔اس کے سیکھنے کے بہت سے طریق ہیں۔ہماری جماعت پر خدا تعالیٰ کے بڑے فضل ہیں کہ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو قرآن شریف کے معنی جانتے ہیں اور دوسروں کو پڑھا سکتے ہیں۔غیر احمدیوں نے تو قرآن شریف کو بالکل بھلا دیا ہے اس لئے وہ کچھ نہیں جانتے بلکہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ قرآن شریف کے معنی بلا مدد تفاسیر کے کرنے کفر سمجھتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص نے مجھے ایک واقعہ سنایا ایک احمدی کچھ لوگوں کو قرآن سنایا کرتا تھا۔ایک دن خطبہ میں اس نے قرآن شریف پڑھ کر مطلب بیان کیا۔تو ایک شخص کہنے لگا کہ یہ باتیں تو بڑی اچھی کرتا ہے لیکن ہے کافر۔اس کا کیا حق ہے کہ قرآن شریف کے معنی کرے اسے تو چاہئے تھا کہ بیضاوی دیکھتا۔تفسیر کبیر پڑھتا۔یہ قرآن شریف کے معنی اپنے پاس سے کیوں کر رہا ہے۔یہ ہے غیر احمدیوں کی حالت۔یہی ہیں وہ لوگ جن کی نسبت قرآن شریف میں آیا ہے۔وَ قَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ۔مهجورا (الفرقان : (۳۱) - کہ رسول کریم خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے میرے رب! اس میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔ان کے عزیزوں کے خط آتے تو بڑے شوق اور محبت سے پڑھاتے تھے۔لیکن قرآن جس میں تجھ تک پہنچنے کی راہیں تھیں اور تجھے تعلق پیدا کرنے کے طریق تھے اس کو انہوں نے نہ پڑھا باوجودیکہ پڑھانے والے ان کو پڑھاتے تھے مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور نہ پڑھا۔پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک قرآن شریف نہیں پڑھا اور اگر پڑھا ہے تو با معنی نہیں پڑھا وہ ہوشیار ہو جائیں اور پڑھنے کی فکر میں لگ جائیں کیونکہ بے علمی کی مرض بہت بری ہے۔ایک بے علم شخص نماز پڑھتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔اسی طرح ایک جاہل انسان روزہ رکھتا ہے۔اور سارا دن بھوکا رہتا ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے بعض ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ جن سے روزہ کا پورا پورا۔سے