انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 111

والعلوم جلد ۳۰ انوار خلاف طرح نہ کیا ہو گا۔پس یہ بات بھی حل ہو گئی کہ آنحضرت ا نے جو تلوار اٹھائی تھی وہ اس لئے اٹھائی تھی کہ آپ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی ورنہ آپ بھی کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔غرض یہ آیت بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس رسول کے آنے کا ایسا زمانہ ہو گا جب کل مذاہب ظاہر ہو جائیں گے اور ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے اسلام کو کل ادیان پر غالب کیا جا سکے گا اور وہ یہی زمانہ ہے اور اس لئے مسیح موعود ہی احمد ہو سکتے ہیں۔اس آیت سے ایک اور طرح بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مسیح موعود کا ذکر ہے۔اور وہ یہ کہ یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آئی ہے اور تینوں جگہ مسیح کا ساتھ ذکر ہے۔دو جگہ تو صاف مسیح کا نام موجود ہے اور تیسری جگہ ساتھ انجیل کا ذکر ہے۔پس تین جگہ اس آیت کا قرآن کریم میں آنا۔اور تینوں جگہ ساتھ مسیح کا ذکر ہونا دلالت کرتا ہے کہ مسیح کے ساتھ اس آیت کا کوئی خاص تعلق ہے اور وہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس آیت کا مضمون مسیح کی بعثت ثانیہ کے وقت پورا ہونا تھا۔اور اگر اس آیت کا مسیح کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تین متفرق پر مسیح کے ذکر کے ساتھ اس آیت کو دہرایا گیا ہے ایک دفعہ سورۃ تو بہ رکوع ۵ میں۔رو سری دفعہ سورۃ فتح رکوع ۴ میں۔اور تیسری دفعہ اسی سورۃ صف میں۔هَلْ اَدلُكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ - ) است : (1) ساتویں دلیل وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو! تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بچ جاؤ۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہو گا لوگ دین کو بھلا کر دنیا کی تجارت میں لگے ہوئے ہوں گے۔چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔پس یہ آیت بھی ثابت کرتی ہے کہ ان آیات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ذکر ہے۔تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ ایک ضمنی بات اَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْر لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) است : ١٣ الله تعالی فرماتا ہے۔اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔یہ تمہارے لئے بہت اچھی بات ہے۔اگر تم جانے