انوارالعلوم (جلد 3) — Page 47
انوار العلوم جلد ۳۰ پیغام مسیح موعود ہوتے ہیں اور اسی طرح یہ کہ اس زبان میں جو لفظ کسی خاص شئے کے لئے وضع کیا گیا ہو وہ صرف اس چیز کے لئے بطور علامت نہیں ہو تا بلکہ اس چیز کا وہ نام کسی مناسبت کی وجہ سے رکھا جاتا ہے اور وہ نام ہی بتا دیتا ہے کہ اس چیز میں وہ کونسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے مثلاً اردو میں ایک لمبی چیز کو لمبی کہیں گے۔ماں کو ماں کہیں گے۔باپ کو باپ کہیں گے تو ان الفاظ سے مراد صرف وہ چیزیں ہوں گی۔ان سے یہ پتہ نہ لگے گا کہ ان میں کیا امتیازی بات ہے جس کی وجہ سے انہیں اس نام سے مخصوص کیا گیا ہے اور اگر ہم ان لفظوں کی بجائے اور لفظ بدل دیں تب بھی ہمارے مطلب میں نقص نہ آئے گا مثلاً اگر لمبی چھوٹی چیز کو کہنے لگیں اور چھوٹی لمبی کو تو اس سے اردو زبان میں کوئی نقص نہ ہو گا لیکن عربی زبان کا یہ حال نہیں اس میں اگر طویل کو قصر کہنے لگیں تو یہ کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ طول جن معنوں پر دلالت کرتے ہیں ق ص ر ان پر نہیں کرتے۔غرض دوسری زبانوں میں تو چیزوں کے نام صرف علامت کے طور پر ہیں اگر ان کو بدل کر اور لفظ رکھ دیں تو کوئی حرج نہیں لیکن عربی زبان میں ہر ایک نام نہ صرف بطور علامت ہوتا ہے بلکہ اس چیز کے کسی خاص امتیاز پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس وجہ سے ایک لفظ کی بجائے دوسرا نہیں رکھ سکتے۔ابھی چند ماہ ہی ہوئے جنگ یورپ کے متعلق انگلستان کے اخبارات میں ایک عجیب سوال پیدا ہوا تھا جس کا باعث یہ تھا کہ جرمن افسروں اور انگریز افسروں کے طریق جنگ میں فرق تھا جر من افسر تو پیچھے کھڑے ہو کر اپنی فوج کو لڑواتے اور انگریز افسر آگے ہو کر۔اس پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ ان دونوں طریقوں میں سے کون سا طریق بہتر ہے۔انگریزی اخبارات نے لکھا کہ ہمارے افسروں کا ہی طریق درست ہے کیونکہ اس سے فوج کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ افسر ہمیں مروانا نہیں چاہتے بلکہ خود ہم سے بھی آگے رہتے ہیں مجھے اس بحث کو دیکھ کر عربی زبان کی طرف توجہ ہوئی اور میں نے دیکھا کہ عربی زبان نے انگریزوں کے حق میں فیصلہ کیا ہے کیونکہ عربی میں فوج کے افسر کو قائد کہتے ہیں اور قاد جس سے یہ لفظ نکلا ہے اس کے معنے ہیں کسی جانور کو آگے کھڑے ہو کر اس کی نکیل پکڑ کر کھینچنا۔پس عربی زبان نے فوجی افسر کے لئے جو لفظ رکھا ہے۔اس میں سے ہی یہ بھی نکل آیا کہ وہ افسر فوج کے آگے ہو پیچھے نہ ہو۔انگریزی میں جرنیل کرنیل وغیرہ الفاظ ہیں جو صرف اشارہ کے طور پر مقرر کر دیئے گئے ہیں لیکن عربی نے ایسا لفظ مقرر کیا ہے جس سے اس افسر کے فرائض پر بھی روشنی پڑتی ہے۔قائد کے لفظ میں ایک اور بھی خوبی ہے اور وہ یہ کہ وہ سپاہیوں