انوارالعلوم (جلد 3) — Page 46
دم جلد -- ۴۶ پیغام مسیح موعود أمَّةٍ إِلَّا خَلَافِيْهَا نَذِيرُ اور جیسا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَتِ الْعَلَمِيْنَ سے استدلال ہوتا ہے اور نبیوں کا سلسلہ کوئی نیا سلسلہ نہیں ہے پس حضرت مسیح موعود کی غرض اور ان کی بعثت کا مدعا دریافت کرنے کے لئے ہمیں کسی شخص سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں جو غرض ان پہلے نبیوں کی بعثت کی تھی وہی حضرت مسیح موعود کی بعثت کی ہے جب کہ اس جماعت کے ہزاروں افراد پہلے گزر چکے ہیں تو مسیح موعود کی بعثت کی غرض دریافت کرنے کے لئے ہمیں کسی مزید کوشش کی کیا ضرورت ہے جو پیغام نبیوں کی معرفت دنیا کو دیا گیا ہے وہی پیغام حضرت مسیح موعود کی معرفت دیا گیا ہے اور جس بات کی طرف ان کے ذریعہ بلایا جاتا تھا اسی کی طرف حضرت مسیح موعود کے ذریعہ بلایا گیا ہے اور اسی لحاظ سے میں نے کہا تھا کہ وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اللہ تعالٰی نے دنیا کی طرف بھیجا ہے وہ کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ پرانا ہی پیغام ہے اور نیا صرف اس لحاظ سے ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے اسے ایسا ہی بھلا دیا ہے کہ اب وہ ان کے لئے ایک نئے پیغام کی طرح ہی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے نبی کیا پیغام دنیا کی طرف نبیوں کے آنے کی غرض لائے تھے اور کس کام پر مقرر کئے جاتے تھے سو اس کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کے متعدد مقامات میں اس پیغام کو خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے جو نبیوں کی معرفت بھیجا جاتا ہے۔بلکہ اس پیغام کا مغز تو اسلام اور ایمان کے لفظ سے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس آخری دین کا نام اسلام اور اس کے قبول کرنے کا نام ایمان رکھ کر تمام مذاہب کی غرض کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔اس جگہ جو صاحبان بیٹھے ہیں ممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ چونکہ ان میں سے اکثر عربی کا مذاق نہیں رکھتے اس لئے میرے مطلب کو نہ سمجھ سکیں کہ ان الفاظ سے کس طرح انبیاء کی بعثت کی غرض نکلتی ہے۔اس لئے میں مختصر ا بتا دیتا ہوں۔اسلام کے معنے ہیں فرمانبرداری اور ایمان کے معنی ماننے کے ہیں۔اس کی دنیا میں جو نبی بھیجے جاتے ہیں ان کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ ان کی فرمانبرداری کریں اور ان کی باتوں کو مان لیں۔یہ مطلب تو ان الفاظ کے عام معنوں کے مطابق ہے لیکن جب ہم ان دونوں لفظوں کی بناوٹ پر غور کریں تو اور زیادہ وضاحت سے انبیاء کی بعثت کی غرض معلوم ہو جاتی ہے مگر اس کے سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عربی زبان کی خصوصیات میں سے یہ ایک عجیب خصوصیت ہے کہ اس میں صرف الفاظ کے معنے نہیں ہوتے بلکہ حروف کے بھی