انوارالعلوم (جلد 3) — Page 592
نوار العلوم جلد ۳۰ ۵۹۲ زندون پڑتی ہے۔سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کیا جاتا ہے۔وقت خرچ ہوتا ہے۔رات کو نیند ترک کر کے عبادت کی جاتی ہے۔اسی طرح ہندو، عیسائی، یہودی وغیرہ لوگ عبادات کرتے اور اپنے اوپر مذہبی قیود عائد کر لیتے ہیں۔لیکن بلا کسی وجہ اور ضرورت کے کیا ضرورت ہے کہ لوگ خاص پابندیوں کے مقید ہوں اور ہر ایک کام اور ہر ایک چیز جس کو ان کا جی چاہے حاصل نہ کریں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب کا انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں اپنے مذہبی اصولوں پر چلوں گا تو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے گا۔اور اگر نہ چلوں گا تو خدا سے دور ہو جاؤں گا اور اس کی عنایات سے محروم رہوں گا۔بہت دفعہ انسان چاہتا ہے کہ ایک چیز ناجائز طور پر حاصل کر لے۔مگر چونکہ جانتا ہے کہ اول تو اس کا خمیازہ اسی دنیا میں اٹھالوں گا۔اور اگر بچ رہا تو خدا ضرور سزا دے گا اور اپنے سے دور کر دے گا۔اس وجہ سے وہ باز رہتا ہے۔اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جن کو انسان صرف اس لئے اختیار نہیں کرتا کہ خدا ناراض ہو جائے گا اور نتیجہ خطرناک نکلے گا۔تو مذہب کی غرض یہ ہے کہ خدا کی محبت پیدا ہو، خدا کی رضا حاصل ہو اور انسان کو تاریکی اور ظلمت سے نکالے اور روشنی کی طرف لے جائے۔پس زندہ مذہب وہی ہو گا جس میں یہ باتیں پائی جائیں۔اور جس میں یہ باتیں پائی جائیں گی وہی مذہب قابل قبول ہو گا۔کیوں؟ اس لئے کہ مذہب کو انہیں اغراض کے حاصل کرنے کے لئے قبول کیا جاتا ہے۔رسم اور بناوٹ کے طور پر اختیار نہیں کیا جاتا۔پس جس فائدہ کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے جس میں وہ حاصل ہو رہی زندہ مذہب ہے اور باقی سب مردہ۔اور اسی غرض اور فائدہ کو مدنظر رکھ کر وہ مذہب قبول کرنا چاہئے۔جب وہ حاصل ہو جائے تو اس کے علاوہ اور کسی مذہب کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔انسان کا قاعدہ ہے کہ جس غرض کے لئے کوئی چیز حاصل کرے وہ اگر اس غرض کا پورا کرنا پوری ہو جائے تو پھر دوسری کی طرف توجہ نہیں کرتا۔مثلاً ایک سے انسان کو سردی سے بچنے کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے۔وہ کپڑا خریدنے کے لئے جب بازار جائے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ کسی کپڑے سے میری غرض پوری ہو سکتی ہے اور جو کپڑا سردی سے بچانے والا ہو گا اسے خرید لے گا۔یہ نہیں کرے گا کہ ایک نہایت خوبصورت ریشمی کپڑے کو جو کہ بہت ہی باریک ہو سردی سے بچانے کی غرض سے خرید لے۔ہاں یہ ہو گا کہ اگر اسے ایسا کپڑا جو خوبصورت بھی ہو اور سردی سے بھی بچائے مل جائے تو وہ اسے اس کپڑے پر