انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 593

۵۹۳ زند و نه آب جو صرف سردی سے بچائے اور خوبصورت نہ ہو ترجیح دے گا۔تو مذہب کے قبول کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ کونساند ہب ، مذہب کی اصل غرض پوری کرتا ہے اور جو پوری کرے اسے اختیار کیا جائے گا۔ہاں اگر دو تین مذاہب اس غرض کو پورا کریں تو پھر دیکھیں گے کہ اور باتیں کس مذہب میں دوسرے مذاہب سے اچھی اور عمدہ ہیں۔لیکن اگر ایک ہی ایسا مذ ہب ہو جو اصل غرض کو پوری کرے تو پھر سوائے اس کے چارہ نہیں ہو گا کہ اسی کو اختیار کیا جائے اور باقیوں کو ترک کر دیا جائے۔کیونکہ عقلمند اور دانا انسان کا کام زندہ مذہب اختیار کرتا ہے نہ کہ مردہ کو۔اور ایک ایسا انسان جو کسی جگہ کا راستہ نہ جانتا ہو اور تھک کر چور ہو گیا ہو اسے کسی ایسی سواری کی ضرورت ہو گی جو اسے منزل مقصود پر پہنچا دے۔یہ نہیں ہو گا کہ وہ کوئی مردہ گھوڑا یا گدھا وہاں پہنچنے کے لئے لے لے۔کیونکہ وہ کہے گا کہ مردہ سواری تو میرے لئے اور زیادہ بوجھ اور تکلیف کا باعث ہوگی نہ کہ آرام دے گی۔تو کوئی ایسا مذہب جو مذہب کی اصل غرض کو پورا نہیں کرتا۔اس کا اختیار کرنا نہ کرنے سے بد تر ہے۔کیونکہ وہ تو اور زیادہ گمراہی کا باعث ہو گا۔اس لئے کسی مذہب کے قبول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ اصل غرض کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ہمارا مقصد مذہب کے اختیار کرنے سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا اور بدیوں اور گناہوں سے نجات پانا ہے۔اگر وہ حاصل ہو جاتا ہے تو ہم جان دینے کے لئے بھی تیار ہیں اور اگر وہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر اس کے اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔پس کسی مذہب کے قبول کرنے کے لئے یہی نہیں دیکھنا چاہئے۔کہ اس کی تعلیم ہمارے کانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ فوائد کس میں حاصل ہو سکتے ہیں۔اور کس کی تعلیم ایسی ہے جس پر ہم عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دانا انسان مذہب کی تحقیقات کے وقت کیا کرنا چاہئے چونکہ لغو اور بیہودہ باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا کرتے۔اس لئے مذہب کی تحقیقات کرنے کے وقت عقلمند انسان کو ان باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے جن کا اس کی غرض اور مدعا سے کوئی تعلق نہ ہو۔بلکہ اصل مقصد اور مدعا کو پیش نظر رکھ کر ان باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے جو اس سے تعلق رکھتی ہوں اور جن سے وہ حاصل ہو سکتا ہو۔تو عقلمند انسان کو اپنے مقصد اور مدعا کو دیکھنا چاہئے۔مثلاً ایک پیاسا انسان ہو۔اور وہ کسی سے پوچھے کہ مجھے بتایا جائے کہ پانی کہاں سے ملے گا جس سے میں پیاس بجھاؤں