انوارالعلوم (جلد 3) — Page 591
۵۹۱ زندون کچھ سنانے کے لئے کھڑا ہو۔اس کی نسبت صرف یہ دیکھنا کہ کیسا بول سکتا ہے یا ایک عجوبہ کے طور پر لیکچر سننا ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔اس لئے اپنے دل میں خوف خدا پیدا کر کے سننا اور صداقت کو قبول کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں اصل مضمون بیان کرتا ہوں۔میرا زندہ اور مردہ مذہب کی تعریف مضمون ہے " زندہ مذہب " اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ زندگیاں مختلف ہوتی ہیں۔ایک انسان کی زندگی ہوتی ہے۔ایک درخت کی زندگی۔انسان کی زندگی کو درخت کی زندگی پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔اور درخت کی زندگی کو انسان کی زندگی کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔اسی طرح زندہ مذہب سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ وہ انسان کی طرح چلتا پھرتا بولتا چاہتا کھاتا پیتا ہے۔بلکہ جس طرح ہر چیز کی زندگی کا الگ مفہوم ہوتا ہے اسی طرح مذہب کی زندگی بھی ایک خاص مفہوم رکھتی ہے۔ہماری زبان میں یہ محاورہ ہے کہ کوئی چیز جس غرض کے لئے بنائی گئی ہو جب تک اسے پورا کرے اس وقت تک وہ زندہ کی جاتی ہے۔اور جب نہ کرے اس وقت مردہ۔اس لئے کوئی مذہب جب تک اپنی غرض اور غایت کو پورا کرتا ہے اس وقت تک زندہ کہا جا سکتا ہے اور جب نہ کرے مردہ۔لیکن کسی مذہب کے متعلق زندہ اور مردہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دیکھیں مذہب کی غرض کیا ہے ؟ اسے کیوں اختیار کیا جاتا ہے ؟ پس اگر جس غرض کے لئے کسی مذہب کو اختیار کیا جاتا ہے وہ پوری ہو جائے تو مذہب زندہ ہے اور اگر نہ پوری ہو تو مرده - عربی زبان کے لحاظ سے تو اس کا فیصلہ نہایت آسان ہے کیونکہ اس میں مذہب کی غرض مذہب کے معنی طریق اور راستہ کے ہیں۔اور جس طرح دنیا وی رہتے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے لئے ہوتے ہیں اسی طرح وہ راستہ جو گمراہی اور بے دینی سے نکال کر خدا تک پہنچا دے اس کو مذہب کہتے ہیں۔تو مذہب کے معنی راستہ کے ہیں اور اس کو اختیار کرنے کی غرض یہ ہے کہ انسان کو ظلمتوں ، تاریکیوں بدکاریوں اور گناہوں سے نکال کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرا دے۔اس کی رضامندی حاصل ہو جائے۔پس یہی ایک ایسی بات ہے کہ جس کی وجہ سے کسی مذہب کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ورنہ کیا ضرورت ہے کہ انسان اپنے اوپر کئی قسم کی پابندیاں ڈال لے۔ایک مسلمان ہے اسے پانچ وقت نماز پڑھنی