انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 495

انوار العلوم جام ۳۰ کرتے ہیں۔۴۹۵ ذکرائی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی آواز اور خیالات میں بھی ایک قسم کا اثر رکھا ہوا ہے۔مثلاً اگر انسان ہر وقت کسی بات کے متعلق سوچتا رہے کہ یوں ہو گیا تو اس کے خیال میں اسی قسم کا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص یہ خیال کر لیتا ہے کہ میرے دل سے اللہ اللہ نکل رہا ہے تو بیٹھے بیٹھے وہ اس قسم کی آواز سنا شروع کر دیتا ہے کہ گویا اس کا دل ہی بول رہا ہے۔حالانکہ اگر در حقیقت اس کا دل ہی بولتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ پاک نہیں ہو جاتا۔پھر ہندوؤں میں مسلمانوں کی نسبت بھی بہت زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف اپنا ہی دل بلاتے ہیں بلکہ دوسروں کے دلوں کو بھی بلا لیتے ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ اس کے متعلق میں ایک کتاب لکھوں اور بتاؤں کہ نبیوں اور شعبدہ بازوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔یہ ایک معمولی علم ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ نہیں پہنچا ہو تا۔اگر کوئی شخص کسی مقام پر پہنچنا چاہے اور کسی اور ہی جگہ پہنچ کر سمجھ لے کہ جہاں مجھے جانا تھا وہاں پہنچ گیا ہوں تو وہیں بیٹھ جائے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سخت نقصان اٹھائے گا۔اسی طرح اس قسم کے عمل کرنے والے بھی غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اصل مقام پر پہنچ گئے ہیں حالانکہ اس سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور ایک انیمی کی طرح نشہ میں پڑے ہوتے ہیں۔پس اس قسم کے ذکر و اذکار لغو تھے جن سے حضرت مسیح موعود نے روکا۔اور ان کے کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔کیونکہ جب ہندو اور عیسائی بھی یہی بات کر سکتے ہیں تو یہ ذکر اللہ کس طرح کہلا سکتے ہیں۔باقی رہا اونچی آواز سے ذکر کرنا یا راگ وغیرہ سننا۔سو میں نے بتایا ہے کہ انسان کے اعصاب میں ایک خاص طاقت رکھی گئی ہے۔اثر قبول کرنے اور اثر پہنچانے کی اور اعصاب پر اثر جن دروازوں سے ہوتا ہے ان میں سے ایک کان بھی ہے جو اچھی آواز سے متاثر ہوتے ہیں۔انسان تو انسان حیوان بھی اچھی آواز سے اثر پذیر ہوتے ہیں۔مثلا سانپ کے سامنے بین بجائی جائے تو وہ لوٹنے لگتا ہے۔لیکن کیا اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر روحانیت کا کوئی خاص اثر ہوا ہے۔ہرگز نہیں۔اسی طرح اگر گانا سننے سے کوئی ناچنے لگتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا