انوارالعلوم (جلد 3) — Page 496
رالعلوم جلد ۳ ۴۹۶ ذکر الهی کہ اس کی روحانیت پر اثر ہوا ہے۔بلکہ یہ کہ اس کے احساسات نے ایک ایسا اثر قبول کیا ہے جس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس اگر کوئی شخص گانے وغیرہ کو روحانیت پر اثر ڈالنے والا سمجھتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے اور نادانی ہے۔کیونکہ جس طرح ایک سانپ پین پر مست ہوتا ہے اسی طرح گانے اور بجانے پر آج کل کے صوفی ناچتے ہیں۔پھر یہ ایک بدعت ہے کہ اونچی اور بلند آواز سے کوئی ذکر کیا جائے۔ایک دفعہ رسول کریم جا رہے تھے کہ چلتے چلتے صحابہ نے زور سے کہا۔اللہ اکبر اللہ اکبر اس پر آپ نے فرمایا۔اِربَعُوا عَلیٰ أنْفُسِكُمْ فَاِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ اَصَمَ وَلَا غَائِبًا إِنَّهُ مَعَكُمْ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ (بخارى كتاب الجهاد باب ما يكره من رفع الصوت في التكبير ، ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو فرمایا تم لوگ اپنے نفوس پر رحم کرو۔آہستہ آہستہ کیوں نہیں کہتے جس کو تم پکارتے ہو وہ نہ بہرہ ہے اور نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا اور تمہارے قریب اور تمہارے ساتھ ہے۔لیکن آج کل کے صوفیاء کو دیکھو جہاں ان کی مجلس ذکر ہو وہ محلہ گونج اٹھتا ہے۔اور اس کو وہ بڑا نیکی کا کام سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے پھر اشعار و مزامیر، ذکر پر رقص و سرور چیخ مارنا اونچی آواز سے ذکر کرنا ، گرنا سر ہلانا وغیرہ میں سے کوئی بات بھی رسول کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ابھی اشعار سنتے تھے مگر یہ کہیں سے ثابت نہیں ہوا کہ آپ ای اشعار ذکر الہی کے طور پر سنا کرتے تھے۔آپ کا شعر سننا اس طرح ہوتا تھا کہ حسان آئے اور آکر عرض کی یا رسول اللہ فلاں کافر نے آپ کے خلاف شعر کے ہیں اور میں نے ان کا جواب لکھا ہے۔اسے آپ سن لیتے یا یہ کہ ایک شخص کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہوا تھا اس نے اجازت لے کر ایسے شعر پڑھے جن میں اپنی جان بخشی کی اس طرح درخواست کر دی کہ جب میں آپ کے پاس آنے لگا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ نے تیرے قتل کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔اور وہ تجھے قتل کروا دیں گے۔لیکن میں نے اس پر اعتبار نہ کیا اور سمجھا کہ جب ان کے پاس جا رہا ہوں اور جاکر معافی مانگ لوں گا تو کیا پھر بھی قتل کیا جاؤں گا۔یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے اس پر اپنی چادر ڈال دی کہ کوئی اسے قتل نہ کر سکے۔اس کے بعد اس نے کہا کہ مجھے اپنی جان کا خوف نہیں تھا کہ میں نے اس طرح معافی مانگی ہے بلکہ یہ خوف تھا کہ میں اس کفر کی حالت میں ہی نہ قتل کر دیا جاؤں کیونکہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ دین اسلام سچا مذہب ہے۔تو رسول کریم اس قسم کے شعر سنتے تھے۔