انوارالعلوم (جلد 3) — Page 494
۴۹۴ ذکر الهی کیا اور اس زور سے کیا کہ دوسرے لوگ جو ہندو تھے وہ بھی اللہ اللہ کرنے لگ گئے۔لیکن وہیں ایک ہندو سادھو بیٹھا تھا۔اس کی زبان پر اللہ اللہ جاری نہ ہوا۔وہ اس پر اپنی خاص توجہ ڈالنے لگے۔مگر ڈال ہی رہے تھے کہ ان کے منہ سے بے اختیار رام رام نکلنا شروع ہو گیا۔کیونکہ اس سادھو نے ان پر رام رام جاری کرنے کی توجہ کرنی شروع کر دی۔یہ دیکھ کر وہ سخت حیران ہوئے اور اسی دن سے اس طرح ذکر کرنے سے توبہ کی کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ ایک علم ہے نہ کہ ذکر کا اثر۔کیونکہ اگر اللہ کہنے کا ہی یہ اثر ہو تاکہ دوسروں کی زبان سے بھی بے اختیار جاری ہو جاتا تو پھر رام رام کیوں جاری ہو تا۔تو ان لوگوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے کہ کوئی شخص جنگل میں جا رہا ہو اور سخت بھوکا ہو کہ اسے ایک تھیلی مل جائے جس میں دانے سمجھ کر خوش ہو رہا ہو لیکن دراصل اس میں ٹھیکریاں پڑی ہوں۔یہی حالت اس انسان کی ہوتی ہے جو اس قسم کے طریقوں پر چلتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہوں۔حالانکہ اصل میں ایک نشہ ہوتا ہے۔جس میں وہ مخمور ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں خاص مقام پر پہنچ گیا ہوں لیکن اس کا قلب ویسے کا ویسا ہی گندہ اور ناپاک ہوتا ہے جیسا کہ پہلے تھا۔تو یہ افیم وغیرہ کی طرح ایک نشہ ہوتا ہے ہماری جماعت کے ایک مخلص شخص ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے کہ اس طرح کرنے سے بڑا مزا آتا ہے میں ان کو بھی کہتا کہ جس طرح انیم اور کوکین سے مزا آتا ہے۔اسی طرح اس سے بھی آتا ہے۔اس کا۔ثبوت یہ ہے کہ ایسے ذکروں سے روحانی صفائی نہیں ہوتی بلکہ وہ جو کہتے ہیں کہ ہمار ا ذ کر عرش تک پہنچتا ہے ان میں بھی روحانی صفائی نہیں ہوتی۔اس پر انہوں نے سنایا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ایک شخص تھا جو کہتا تھا کہ میں نے سب درجے طے کر لئے ہیں مگر باوجود اس کے لوگوں سے غلہ اور دانے مانگتا پھرتا تھا۔میں اس کی نسبت خیال کرتا تھا کہ جب یہ اس مقام پر پہنچا ہوا ہے تو پھر کیوں لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرتا ہے۔حضرت مسیح موعود" ایک شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاص لالچی پیر کا قصہ درجہ تک پہنچا ہوا سمجھتا تھا۔مگر ایک دفعہ ایک مرید کے ہاں گیا اور جاکر کہا۔لاؤ میرا ٹیکس (یعنی نذرانہ قحط کا موسم تھا۔مرید نے کہا کچھ ہے نہیں۔معاف کیجئے۔پیر صاحب بہت دیر تک لڑتے جھگڑتے رہے اور آخر کوئی چیز بکوائی اور روپیہ لے کر جان چھوڑی۔تو اس قسم کی کمزوریاں اور گند ان لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے