انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 157

۱۵۷ انوار العلوم جلد ۳ حسنة (الاحزاب : بن جاؤ گے۔پھر وہ جس کی نسبت خدا تعالٰی فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ (الاحزاب : (۲۲) کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو۔اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال افعال اور حرکات و سکنات کی پیروی کرو۔کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی استغفار کرنے کی ضرورت تھی۔جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسندیدہ ہو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔اگر وہ بھی گناہ گار ہو سکتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک تھے۔یہی تو وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کرو۔ورنہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پا سکو۔پس آنحضرت ا ی کی طرف کسی گناہ کا منسوب کرنا او تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تو استغفار کر۔استغفار کر۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انہی الفاظ کو مد نظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا۔کیونکہ قرآن اس کو حکم دیتا ہے کہ تو استغفار کر لیکن ہمارے مسیح کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا۔پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا۔اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت ذنب کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گناہوں سے پاک۔اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی رقت پیش آئی ہے اور گو انہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔یہی وجہ تھی کہ ہزار ہا مسلمانوں کی اولاد عیسائی ہو گئی اور تو اور سیدوں کی اولادوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں۔غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا۔اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت ﷺ کی نسبت ان