انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 156

دار العلوم جلد۔۳ ۱۵۶ بہت ضروری ہے اور آج وقت بھی مل گیا ہے اس لئے اسی حصہ کو بیان کرتا ہوں۔وہ دوسرا حصہ جس کو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے۔جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندرہ رہے ہیں۔نیز اس سورۃ میں خدا تعالٰی نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غورد فکر اور عمل در آمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے۔اور نہ مسلمان پر اگندہ ہوتے۔نہ ان کی حکومتیں جاتیں۔نہ اس قدر کشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جاتا کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اٹھا اور باوجود مٹانے کے ابھرا اور آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں۔کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا۔اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا۔بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا۔حتی کہ تیرہ سو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آکر اس کو جوڑے۔اس فرستادہ خدا سے پہلے کے تمام مولویوں اگدی نشینوں ، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر اکارت گئیں۔اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا۔پر نہ آیا۔اور کس طرح آسکتا تھا جبکہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔غرض اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔اس سورۃ میں آنحضرت ا کو تاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں۔اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا بنانے آیا تھب گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک و صاف کرنے آیا تھا۔اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے قُل اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ دال مهران : ۳۲) سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے