انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 132

۱۳۲ انوار خلاف که فرمایا فَضلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِى عَلَى أدْنَاكُمْ ( ترمذی ابواب العلم ، یعنی عالم (جو) عابد بھی ہو) کو عابد (جو عالم نہ ہو) پر اسی قدر فضیلت ہے جس قدر کہ مجھے تم میں سے ادنیٰ سے ادنی انسان پر فضیلت ہے۔ہماری جماعت جس نے خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا اسے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا نہیں۔اس وقت دنیا کے علوم سیکھنے میں جو قومیں لگی ہوئی ہیں ان کو دیکھو وہ کس طرح رات دن ان علوم کے سیکھنے میں صرف کرتی ہیں بعض لوگوں کا میں نے حال پڑھا ہے کہ انہوں نے بعض زبانیں بڑی بڑی عمروں میں سیکھی ہیں چنانچہ ایک انگریز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس نے ستر سال کی عمر میں لاطینی زبان سیکھنے کی طرف توجہ کی اور خوب اچھی طرح سے اسے سیکھ لیا پھر آپ لوگ جو دین کی خدمت کے لئے اور قرب الہی کے حاصل کرنے کے لئے کمر بستہ ہوئے ہیں آپ کو اس قانون کے سیکھنے کی طرف کس قدر توجہ کرنی چاہئے۔مگر غور تو کرو کہ تم میں سے کتے ہیں جنہوں نے اتنی عمر میں قرآن شریف کے پڑھنے کی کوشش کی ہے۔قرآن شریف تو وہ کتاب ہے جس میں ایسی ایسی باتیں ہیں کہ اگر ہم ان سے واقف ہو جائیں تو اس دنیا میں بھی سکھ پاسکتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی آرام سے رہ سکتے ہیں۔پس کیسا غافل ہے وہ انسان جون اپنے پاس خدا تعالیٰ کی کتاب کے ہوتے ہوئے اس کو نہ پڑھے۔دنیا میں اگر کسی کے نام چھوٹی سے چھوٹی عدالت کا سمن آئے تو اس کو بڑی توجہ سے پڑھتا ہے اور جو خود نہ پڑھ سکتا ہو وہ ادھر ادھر گھبرایا ہوا پھرتا ہے کہ کوئی پڑھا ہوا ملے تو اس سے پڑھاؤں اور سنوں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اور جب تک پڑھا نہ لے اسے صبر نہیں آتا۔پھر اگر کسی کا خط آئے تو ان پڑھ چار چار پانچ پانچ دفعہ پڑھاتے پھرتے ہیں۔اور پھر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی۔لیکن تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خط آیا ہے (کتاب کے معنی خط کے بھی ہیں) اس کو پڑھنے یا پڑھوا کر سننے کی طرف کسی کو توجہ نہیں ہوتی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ قرآن شریف ایسا خط اور آنحضرت الا ایسا ڈا کیا اور خدا تعالیٰ جیسا خط بھیجنے والا لیکن دنیا اور غافل دنیا نے اس کی کچھ قدر نہ کی۔ایک سات روپیہ کا چٹھی رساں اگر خط لاتا ہے تو پڑھتے پڑھاتے پھرتے ہیں لیکن خاتم الانبیاء کی لائی ہوئی کتاب کو نہیں پڑھتے۔ایک پیسہ کے کارڈ کی عزت کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کی نہیں کرتے۔کیا قرآن شریف کی قدر ایک پیسہ کے کارڈ کے - ه باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة