انوارالعلوم (جلد 3) — Page 131
را العلوم جلد ۳ 191 ۱۹ المندان انوار خلافت وقت میں میری یہ حالت تھی۔لیکن میں نے رسول کریم ﷺ کو قبول کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے یہ درجہ دیا کہ آج اگر لاکھوں آدمیوں کو کہوں تو وہ میری جگہ جان دینے کے لئے تیار ہیں (طبقات ابن سعد جلد ۳ مطبوع ان اس ام اس واقعہ سے اور نیز اس قسم کے اور بہت سے واقعات معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کس حالت میں تھے اور رسول کریم کی اتباع سے ان کی کیا حالت ہو گئی۔اور انہوں نے وہ درجہ اور علم پایا جو کسی کو حاصل نہ تھا۔یہ قصہ میں نے اس لئے سنایا ہے کہ دیکھو ایک اونٹ چرانے والے کو دین اور دنیا کے وہ وہ علم سکھائے گئے جو کسی کو سمجھ نہیں آسکتے۔ایک طرف اونٹ یا بکریاں چرانے کی حالت کو دیکھو کہ کیسی علم سے دور معلوم ہوتی ہے۔اور دوسری طرف اس بات پر غور کرو کہ اب بھی جبکہ یورپ کے لوگ ملک داری کے قوانین سے نہایت واقف اور آگاہ ہیں حضرت عمر کے بنائے ہوئے قانون کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایک اونٹ کا چرواہا اور سلطنت کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن دیکھو کہ انہوں نے وہ کچھ کیا کہ آج دنیا ان کے آگے سر جھکاتی اور ان کی سیاست دانی کی تعریف کرتی ہے۔پھر دیکھو حضرت ابو بکر ایک معمولی تاجر تھے۔لیکن اب دنیا حیران ہے کہ ان کو یہ فہم یہ عقل اور یہ فکر کہاں سے مل گیا۔میں بتاتا ہوں کہ ان کو قرآن شریف سے سب کچھ ملا۔انہوں نے قرآن شریف پر غور کیا اس لئے ان کو وہ کچھ آگیا جو تمام دنیا کو نہ آتا تھا کیونکہ قرآن شریف ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جب اس کے ساتھ دل کو صیقل کیا جائے تو ایسا صاف ہو جاتا ہے کہ تمام دنیا کے علوم اس میں نظر آجاتے ہیں اور انسان پر ایک ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ پھر کسی کے روکے وہ علوم جو اس کے دل پر نازل کئے جاتے ہیں نہیں رک سکتے۔پس ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور غور کرنے کی کوشش کرے۔دیکھو دنیا کے علوم کے لئے کس قدر محنت اور روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے کس قدر روپیہ خرچ کر کے ان کو اس محنت اور مشقت پر لگایا جاتا ہے۔جب دنیا کے کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے۔تو دین کے علم کے لئے کتنی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے جیسا کہ فرمایا قل هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ( الزمر : (۱) کہہ دے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں یعنی یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔اور آنحضرت ا یہ فرماتے ہیں کہ عالم جو عابد ہو وہ جاہل عابد سے بڑھ کر ہوتا ہے جیسا