انوارالعلوم (جلد 2) — Page 367
۳۹۷ ہر رنگ میں افضل تھے۔اور یہ بات آپ کو الہام کے ذر یعہ بتائی گئی تھی۔اسی طرح ۱۹۰۲ء کے بعد کی تحریرات کو دیکھیں تو ان سے بھی بلا استثناء یہ بات ثابت ہے کہ آپ اپنے آپ کو حضرت مسیح سے افضل قرار دیتے تھے۔اور خود حضرت مسیح موعود ؑبھی حقیقۃ الوحی میں افضلیت کے عقیدہ کو دوسرے عقید کا ناسخ قرار دیتے ہیں تو کیا یہ بات اس بات کا صریح اور کھلم کھلا ثبوت نہیں کہ تریاق القلوب کا وہ حوالہ جس میں مسیح سے اپنے آپ کو کم درجہ پر بیان فرماتے ہیں اور ان سے تمام شان میں بڑا ہونا محال قرار دیتے ہیں۔اور صرف جزئی فضیلت کے قائل ہیں۔۱۹۰۱ء سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔خصوصا ًجبکہ یہ بات خودتریاق القلوب سے بھی ثابت ہے کہ اس کی تیاری ۱۸۹۹ء میں شروع ہوئی۔غرض کہ ۱۹۰۱ء سے لے کر وفات تک اس عقیدہ کے خلاف تحریروں کا موجود ہونا جو تریاق القلوب میں لکھا گیا۔اور پھر تریاق القلوب کی اشاعت سے پانچ دن پہلے آپ کا اس عقیده کے خلاف تقریر کرناجو تریاق القلوب میں لکھا گیا تھا۔اور اس بات کا ثابت ہونا کہ یہ کتاب دراصل۱۸۹۹ء میں شروع ہوگئی ہے۔کیا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ حوالہ بھی واقعہ میں پہلے کا لکھا ہوا ہے اس لئے یہی منسوخ ہے نہ کہ ناسخ۔۳- تیسری دلیل یہ ہے کہ اکتوبر کے مہینہ کی ڈائریاں دیکھ کر معلوم ہو تا ہے کہ ان دنوں میں آپ عصمت انبیاء اور نزول المسیح لکھ رہے تھے۔اور یہ کہیں بھی ذکر نہیں کہ آپ نے ان دنوں تریاق القلوب کے لئے بھی کوئی مضمون لکھا۔اگر ان دنوں میں آپ نے تریاق القلوب کے آخری صفحات لکھے ہوتے تو ان کا ذکر ضرور ڈائری میں آتا۔لیکن ہم اس مہینہ کی ڈائری کو دیکھتے ہیں تو ۱۹ اکتوبر کی ڈائری میں یہ لکھا پاتے ہیں کہ آپ آج کل عصمت انبیاء پر مضمون لکھ رہے ہیں۔اور پھر۳۱ اکتوبر کے ہفتہ کے اخبار قادیان میں لکھا دیکھتے ہیں کہ آپ عصمت انبیاء اور نزول المسیح لکھ رہے ہیں۔جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے اس ماہ میں تریاق القلوب کا کوئی حصہ نہیں لکھا۔اور جیسا کہ واقعات سے ثابت ہے صرف ایک صفحہ لکھ کر کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی۔ورنہ اگر آپ کوئی خاصہ مضمون زائد کرتے تو ضرور اس کا بھی ذکر ہو اگر ثابت ہے کہ ان دنوں میں آپ اور کتابیں تصنیف فرمارہے تھے۔۴- چوتھا ثبوت یہ ہے کہ آپ تریاق القلوب کے صفحہ ۱۳۷ پر لکھتے ہیں۔’’ کہ اب اس وقت تک کہ۵ دسمبر۱۸۹۹ء ہے۔اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آپ۵ دسمبر۱۸۹۹ء کو تریاق القلوب کا صفحہ ۱۳۷ لکھ رہے تھے اور یہ حوالہ جس پر بحث ہے اس سے بیس صفحہ بعد کا ہے۔اور یہ ۱۳