انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 368

۳۹۸ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل میں کتاب تریاق القلوب دسمبر۱۸۹۹ء میں مکمل ہو چکی تھی گو بعض وجوہ سے شائع نہ ہو سکی کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑکی نسبت یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے سارے دسمبر میں ۲۰صفحے بھی نہ لکھے ہوں گے۔۔۔پانچویں دلیل حضرت مسیح موعودؑ کا ایک خط ہے۔جس کی عبارت ذیل میں درج ہے’’ کتاب تریاق القلوب تو اب بالکل تیار ہے لیکن چونکہ مرزاخد ابخش صاحب نصیبین کی طرف تیار تھے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ایک عربی کتاب تیار کر کے ان کو دی جائے۔سو کتاب تریاق القلوب جس میں سے صرف دوچار ورق باقی ہیں بالفعل ملتوی رکھی گئی اور کتاب عربی لکھنی شروع کردی گئی جس میں سے اب تک سو صفحہ چھپ چکا ہے“- دستخط کے ساتھ تاریخ ۱۵/ فروری۱۹۰۰ءدی ہے۔یہ خط ہمارے پاس محفوظ ہے۔آپ چاہیں تو ہم آپ کو دکھلا سکتے ہیں اس خط سے جو فروری ۱۹۰۰ء کا ہے۔ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعوودؑ تریاق القلوب اسی وقت مکمل کر چکے تھے۔اور بہت تھوڑا سا مضمون لکھ کر اسے شائع کر دینے کا ارادہ تھا۔لیکن چونکہ اس کی اشاعت میں دیرہوگئی تھی۔اس لئے حکیم صاحب مرحوم کے زور دینے پر ایک صفحہ اور بڑھا کر کتاب شائع کروی گئی۔پھر حضرت مسیح موعودؑ کا یہ تحریر فرمانا کہ عربی کتاب کا بھی سو(۱۰۰) صفحہ چھپ چکا ہے ثابت کرتا ہے کہ جنوری اور فروری میں حضرت مسیح موعود ؑو ہی عربی کتاب لکھتے رہے ہیں نہ کہ تریاق القلوب جس سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب دسمبر۱۸۹۹ء میں ہی مکمل ہو چکی تھی۔اور ۱۹۰۲ء میں صرف شائع ہوئی لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک اور ثبوت ہے اور وہ یہ ہے: ۶ - کہ تریاق القلوب کتاب مکرمی صاجزادہ پیر منظور میر صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جو اس وقت حضرت صاحب کی کتب لکھا کرتے تھے۔اور منہ ۵۸ اتک سب انہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔اور صرف صفحہ ۱۵۹،۱۶۰ منشی کرم علی صاحب کاتب کا لکھا ہے اور ہر ایک کاتب آپ کو بتاسکتا ہے کہ صفحہ ۵۸اور کاتب کا لکھا ہوا ہے اور ۵۹ او ۲۰ اور کاتب کا۔اور باقی سب کتاب اسی کاتب کی لکھی ہوئی ہے۔جس کا صفحہ ۱۵۸۔صرف ٹا ئٹل کا پہلا صفحہ اور صفحہ ۵۹ اور ۶۰ارو سرے کاتب یعنی منشی کرم علی صاحب کے لکھے ہوئے ہیں اور یہ ایک یقینی ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ حصہ جو تریاق القلوب کا ۱۹۰۲ء میں لکھا گیا ہے صرف آخری دو صفحہ ہیں نہ کہ اس سے پہلے کے صفحے۔اور حضرت صاحب کے خط سے جو اوپر نقل ہو چکا ہے ثابت ہے کہ یہ کتاب ۱۹۰۰ء کی فروری سے اس قدر عرصہ پہلے تیار ہو چکی تھی کہ اس کے بعد سو(۱۰۰) صفحہ ایک اور کتاب کے لکھے گئے اور چھپ چکے