انوارالعلوم (جلد 2) — Page 394
۳۹۴ سال گزرنے ضروری ہیں خواہ الہام پر اس قدر سال گزر بھی چکے ہوں۔تو اس اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعودؑ پر خطرناک حملہ ہوتا ہے اس لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ مسیحیت۱۸۹۱ء میں فرمایا ہے۔اب آپ کے مقرر کر دو اصل کے ماتحت یہ تو دیکھا نہیں جائے گا کہ آپ نے الہام کا اعلان کب سے کیا ہے۔بلکہ یہ دیکھا جاوے گا کہ مسیح موعود ہونے کا دعوی ٰکب کیا۔اور وہ۱۸۹۱ء میں ہوا ہے۔جس کے بعد حضرت اقدسؑ صرف سترہ سال اور چند ماہ زندہ رہے۔اب بتائیں کہ اگر کوئی شخص آپ کے ہی الفاظ میں ذرا تغیر کر کے یہ اعتراض کرے کہ \"۱۸۹۸ء کے بعد آپ صرف سترہ سال پانچ ماہ زندہ رہے کیا ایک مخالف یہ نہیں کہہ سکتا کہ نعوذ باللہ آپ تو تقول والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے۔کیونکہ آپ خودہی اس سے پیشتربراہین احمدیہ میں لکھ چکے تھے کہ مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا افسوس! ان لوگوں نے میری مخالفت میں کہاں سے کہاں نوبت پہنچائی ہے۔اور کیسی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور کن راہوں پر چلتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ ہم جواصل بناتے ہیں اس سے خود مسیح موعود اور اس کے آقا آنحضرت ﷺ پر بھی حملہ ہو تا ہے۔شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اصل بات یہ ہے کہ گو مسیح موعود نے مسیحیت کادعویٰ ۱۸۹۱ء میں کیا ہے اور براہین کے وقت آپ کا یہی اعتقاد تھا کہ مسیح زنده موجود ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو خود براہین احمدیہ میں ایسے الہامات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مسیح ہیں ، چنانچہ اسی کتاب میں دو الہامات درج ہیں۔جن میں عیسیٰ کے نام سے آپ کو پکارا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک ایسا ہی ہے لیکن ساتھ ہی اس وقت یہ بھی تو الہام ہو چکا تھا کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا‘‘ جیسا کہ حضرت صاحب نے خود لکھا ہے کہ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا\" والے الہام کی ایک قراءت یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔اور اگر لفظ نذیر کو ہی قائم رکھیں تب بھی اس کے معنی نبی کے ہی ہیں۔کیونکہ لغت میں نذیر کے معنی نبی کے ہی ہیں اور قرآن کریم میں تو نذیر کا لفظ نبی ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اور بیسیوں کہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے پھر یہ الہام بھی اسی کتاب میں ہے کہ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖاو ر خود حضرت مسیح موعود نے براہین میں لکھا ہے کہ یہ مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی ہے اور آپ خودہی مسیح موعود ہیں۔اسی طرح آپ کا الہام ہے۔جرى اللہ فی حلل الأنبیاء اور جزی کے معنی لغت میں نبی کے موجود بھی ہیں جس کی تشرت فی حلل الأنبیاء نے خوب کر دی ہے۔پس اگر عیسیٰ کے نام کے الہامات کی موجودگی سے